کسی بھی ﺍﻧﺴﺎن کو حقیر مت سمجھو
Image by Mücahit Yıldız from Pixabay
دوسروں کو حقیر سمجھنا ایک ناپسندیدہ امر ہے کہ جس میں فقط مومن و مسلمان ہی شامل نہیں ہوتا بلکہ وارد ہونے والی حديث كي بنياد پر کسی بھی مخلوق خدا کی معمولی اور ادنی سی بھی توہین کرنا نہیں چاہئے.
چونکہ پیغمبر اسلام ص نے فرمایا ہے:
«ﻻ ﯾَﺰْﺭَﺃﻥَّ ﺃﺣﺪُﮐُﻢ ﺑﺄﺣﺪٍ ﻣﻦ ﺧَﻠﻖِ ﺍﻟﻠّﻪ ِ ﻓﺈﻧَّﻪُ ﻻ تدَﺭﯼ ﺃﯾُّﻬُﻢ ﻭﻟﯽُّ ﺍﻟﻠّﻪ.» [ﺑﺤﺎﺭ ﺍﻷﻧﻮﺍﺭ:؟75/147 /21.]
ﯾﻌﻨﯽ: «تم میں سے جو کوئی بھی مخلوق خدا کی توہین و بے عزتی کرے گا تو ممکن ہے کہ تم جانتے ہی نہیں ہو کہ کون اللہ کا ولی ہے، (لہذا کسی کی بھی توہین مت کرو.)» (یعنی کسی کی معمولی سی بھی توہین نہ کیجئے کیونکہ تمہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ کون ولی اللہ ہے.)
ﺣﺪﯾﺚ کی وضاحت
مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان کو کسی بھی حالت میں یہ اجازت نہیں ہے کہ معمولی سی بھی توہین خدا کی مخلوقات شمار ہی کی جائے گی چونکہ اللہ کے اولیا اس کے بندوں کے درمیان چھپے ہوئے ہوتے ہیں لہذا چار چیزوں کو چار چیزوں میں ہی پوشیدہ رکھا ہے چنانچہ امیر المومنین (ع) نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ہے: «ﺇِﻥَّ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﺗَﺒَﺎﺭَﮎَ ﻭَ ﺗَﻌَﺎﻟَﯽ ﺃَﺧْﻔَﯽ ﺃَﺭْﺑَﻌَﺔً ﻓِﯽ ﺃَﺭْﺑَﻌَﺔٍ ﺃَﺧْﻔَﯽ»
ﺧﺪﺍﯼ ﺗﺒﺎﺭﮎ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﭼﻬﺎﺭ ﭼﯿﺰ ﺭﺍ ﺩﺭ ﭼﻬﺎﺭ ﭼﯿﺰ ﭘﻨﻬﺎﻥ ﺩﺍﺷﺘﻪ ﺍﺳﺖ:
۱- ﺭِﺿَﺎﻩُ ﻓِﯽ ﻃَﺎﻋَﺘِﻪِ ﻓَﻠَﺎ ﺗَﺴْﺘَﺼْﻐِﺮَﻥَّ ﺷَﯿْﺌﺎً ﻣِﻦْ ﻃَﺎﻋَﺘِﻪِ ﻓَﺮُﺑَّﻤَﺎ ﻭَﺍﻓَﻖَ ﺭِﺿَﺎﻩُ ﻭَ ﺃَﻧْﺖَ ﻟَﺎ ﺗَﻌْﻠَﻢُ.
★ خداوند عالم نے اپنی ﺧﻮﺷﻨﻮﺩﯼ کو اطاعت میں ہی قرار یا ہے پس کسی بھی اطاعت و فرمان برداری کو ادنی شمار مت کرو بہت سی رضائے پروردگار اسی میں ہی ہوتی ہے اور تمہیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا ہے.
۲- ﻭَ ﺃَﺧْﻔَﯽ ﺳَﺨَﻄَﻪُ ﻓِﯽ ﻣَﻌْﺼِﯿَﺘِﻪِ ﻓَﻠَﺎ ﺗَﺴْﺘَﺼْﻐِﺮَﻥَّ ﺷَﯿْﺌﺎً ﻣِﻦْ ﻣَﻌْﺼِﯿَﺘِﻪِ ﻓَﺮُﺑَّﻤَﺎ ﻭَﺍﻓَﻖَ ﺳَﺨَﻄُﻪُ ﻣَﻌْﺼِﯿَﺘَﻪُ ﻭَ ﺃَﻧْﺖَ ﻟَﺎ ﺗَﻌْﻠَﻢُ.
★ پروردگا عالم نے اپنے غیظ و غضب کو نافرمانی و گناہوں میں پوشیدہ کر رکھا ہے پس کوئی بھی گناہ و نافرمانی کو معمولی تصور نہ کرے کہ ممکن ہے اسی میں اللہ غضبناک ہو گا اور ہمیں خبر ہی نہیں ہو.
۳- ﻭَ ﺃَﺧْﻔَﯽ ﺇِﺟَﺎﺑَﺘَﻪُ ﻓِﯽ ﺩَﻋْﻮَﺗِﻪِ ﻓَﻠَﺎ ﺗَﺴْﺘَﺼْﻐِﺮَﻥَ ﺷَﯿْﺌﺎً ﻣِﻦْ ﺩُﻋَﺎﺋِﻪِ ﻓَﺮُﺑَّﻤَﺎ ﻭَﺍﻓَﻖَ ﺇِﺟَﺎﺑَﺘَﻪُ ﻭَ ﺃَﻧْﺖَ ﻟَﺎ ﺗَﻌْﻠَﻢُ .
★ خالق کائنات نے ﺍپنی اﺟﺎﺑﺖ کو دعاؤں میں چھپا رکھا ہے پس کسی بھی دعا کو حقیر مت سمجھو کہ بہت امکان ہے کہ وہی معمولی سی دعا یی مستجاب ہو جائے اور ہمیں پتہ ہی نہ ہو.
۴- ﻭَ ﺃَﺧْﻔَﯽ ﻭَﻟِﯿَّﻪُ ﻓِﯽ ﻋِﺒَﺎﺩِﻩِ ﻓَﻠَﺎ ﺗَﺴْﺘَﺼْﻐِﺮَﻥَّ ﻋَﺒْﺪﺍً ﻣِﻦْ ﻋَﺒِﯿﺪِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻓَﺮُﺑَّﻤَﺎ ﯾَﮑُﻮﻥُ ﻭَﻟِﯿَّﻪُ ﻭَ ﺃَﻧْﺖَ ﻟَﺎ ﺗَﻌْﻠَﻢُ.»
★ عالمین کے رب نے اپنے ﻭﻟﯽ کو پس کسی بھی خدا کے بندہ کو حقارت کی نظر سے مت دیکھو کہ یہی ہو سکتا ہے کہ شائد وہی اللہ کا ولی ہو اور ہمیں آگاہی نہ ہو. [ﻣﻌﺎﻧﯽ ﺍﻻﺧﺒﺎﺭ، ﺹ 111؛ ﻭﺳﺎﺋﻞ 1/ 88 ﮐﻤﺎﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ، ﺹ .173]
ﺣﺪﯾﺚ کی وضاحت
ﺍس خوبصورت ﺣﺪﯾﺚ کے مفہوم پر توجہ رکھتے ہوئے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ خداوند منان بعض چیزوں کو مخفی کر رکھا ہے لیکن کبھی کبھار حکمت اسے پوشیدہ رکھنے میں ہی ہوتی ہے وہ بھی بندگان خدا کے ساتھ امتحان و آزمائش کی خاطر ہوتا ہے تا کہ واضح و روشن ہو جاۓ کہ کیا یہی عبادات بندگان خداوند عالم کی خاطر ہی ہے یا پھر بندوں کی محبت کے حصول کیلئے ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے اگر کوئی واقعا الہی دستورات کی پابندی کرتا ہے تو اہمترین یہی ہے کہ اسے انجام دینا ہے اور لوگوں کے درمیان اسی لحاظ سے اختلاف کے فائنل نہیں ہونا چاہئے۔

ایک تبصرہ شائع کریں