اسلام میں حیوانات کے حقوق - 1

اسلام میں حیوانوں کے حقوق اور مقام پر ایک نظر
Image by Comfreak from Pixabay 

مترجم: اعظمي بُرَير أبو دانيال
مؤلف: ڈاکٹر محمد حسن قدیری ابيانه


اسلام میں حیوانات کے حقوق اور مقام پر ایک نظر
فہرست مطالب

★حیوانات کیلئے شریعت کے مختصر احکام
۱-حیوانات کے ذریعہ خدا کی عبادت
۲-خداوند عالم سے حیوانات کا مطالبہ 
۳-حيوانات کے ساتھ حسنِ سلوک پر اجر و ثواب
۴-توہین حيوانات نیز لعن و طعن کی ممانعت 
۵-خداوند عالم سے حيوانات کی شکایت
۶-حيوانات کے ساتھ بد سلوکی پر عذاب و سزا
۷-غلات میں کیڑے مکوڑوں کا فائدہ

★ حق، حقوق اور فریضہ کے مفاہیم

حق کی جمع حقوق ہے اور "حق" وہ ایک اعتباری امر ہے کہ جو کسی دوسرے پر (یعنی عَلَیه) کسی فرد کیلئے (یعنی لَهُ) وضع کیا جاتا ہے. یا دوسرے لفظوں میں ایک اعتباری امر کو کسی کے نفع کیلئے اور دوسرے کے ضرر کی خاطر وضع کیا جاتا ہے. ممکن ہے کہ یہ حق واقعی اصول رکھتا ہو یا پھر نہ رکھتا ہو یعنی اس کے اعتباری اور حقوقی امر میں کوئی منزلت کا مفہوم پایا جاتا ہو یا نہ پایا جاتا ہو اس میں واقعی اصول ملحوظ خاطر نہیں رکھا ہے. (مصباح 1377، ص 24 و 25؛ مصباح 1373، ص 161 و 163)
حق میں کچھ لوازم موجود ہوتے ہیں کہ ان میں سے ایک لازمہ جو سب زیادہ واضحترین ہے وہ بہرہ ور ہونا یعنی محظوظ ہونا اور فائدہ اٹھانا ہے. (مصباح 1377، ص 28 و 29)
حق اور فریضہ ایک دوسرے سے تلازم اور دو طرفہ رابطہ رکھتے ہیں پس نتیجہ میں حق اور ذمہ داری متقابل کیلئے قرار دیا گیا ہے یعنی جہاں پر کوئی حق قرار دیا جاتا ہے تو وہیں پر ذمہ داری و عہدہ داری کو بھی وضع کیا گیا ہے اور اس کے بر عکس بھی ایسا ہی ہے؛ لیکن حق اختیاری ہوتا ہے اور ذمہ داری اجباری ہے. (مصباح 1377، ص 30 و 31)
فارسی زبان میں لفظ "حقوق" مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے. (کاتوزیان، 1378، ص 13 و 14)
لفظ «حقوق» كو دوسري اصطلاح ميں حق كي جمع قرار ديا ہے. (مصباح، 1377، ص 23 و 24)
لفظ حقوق فارسي ميں دو معاني ميں استعمال ہوتا ہے؛
اول: لفظ "حق" کی جمع حقوق ہوتی ہے.
دوم: قوانین کے مجموعہ کو بھی حقوق کہا جاتا ہے.
انسان کو چاہئے کہ احکام اور اوامر و نواہی جو کہ حیوانوں کے بارے میں ہیں ان پر عمل کرتا رہے.

Post a Comment

To be published, comments must be reviewed by the administrator *

جدید تر اس سے پرانی