پیغمبر اسلام (ص) کا شیطان سے مکالمہ ۔ ۱

پیغمبر اسلام (ص) کا شیطان سے مکالمہ۔؟

Image by Abdullah Shakoor from Pixabay 

مترجم : اعظمی بُرَیر ابو دانیال

رسولخدا (ص) کا شیطان رجیم سے ایک روز گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا، جس میں آنحضرت (ص) کے چند سوالات اور شیطان کے جوابات سننے کے قابل نیز غور و فکر اور دلچسپ ہیں.

پیغمبر اکرم (ص) ایک روز ام المومنین جناب ام سلمہ (رض) کے حجرہ میں تشریف فرما تھے تو آنحضرت (ص) کی کسی ایک زوجہ نے حجرہ میں وارد ہونے کی اجازت چاہی.
تب حضرت رسول اسلام نے (ص) فرمایا: ابلیس ہے، میں نہیں چاہتا کہ اس کیلئے دروازہ بند کر کے اسے داخل ہونے میں مانع نہ ہوں، لہذا دروازہ کھولئے اور حجرہ میں داخل ہونے دیں۔

جب وہ پیغمبر رحمت (ص) کے پاس آیا تو آنحضرت (ص) کے سامنے ہی ابلیس بیٹھا تو کہنے لگا کہ میں اپنے اخیتار سے یہاں پر نہیں آیا ہوں بلکہ خداوند عالم کی طرف سے دو فرشتے مجھ پر مامور کئے گئے ہیں تا کہ ایک گفتگو کا سلسلہ و مذاکرہ آپ کے ساتھ بھی رکھ سکوں،
آنحضرت (ص) نے فرمایا: میں تجھ سے چند سوالات پوچھنا چاہتا تھا کہ تجھے ان کے جوابات دینا ہی چاہئے۔
حضرت رسولخدا (ص) نے شیطان سے پوچھا: اس دنیا میں تم کس سے دشمنی رکھتے ہو؟
اس ملعون نے جواب دیا: آپ کے ساتھ میں بہت زیادہ دشمنی رکھنا ہوں۔
آنحضرت (ص) نے پوچھا: کیوں؟ 
شیطان نے جواب دیا: آپ اس قدر معنوی و روحانی طاقت لوگوں کی ہدایت کیلئے رکھتے ہیں اور ان سے ایک یقینی وعدہ بھی کرتے ہیں کہ ان ہی لوگوں کی قیامت میں شفاعت فرمائیں گے، جبکہ آپ ہمارے کام میں مانع اور مخل ہوتے ہیں کہ میری ساری زحمت کو ہوا کر دیتے ہیں۔
حضرت رسولخدا (ص) نے شیطان سے پوچھا: کیا تم کسی اور کے بھی ساتھ دشمنی رکھتے ہو۔؟
شیطان نے کہا: میں آپ کے انصار اور اصحاب کا بھی دشمن ہوں، جبکہ وہ لوگ گناہ کرتے ہیں اور توبہ و مغفرت سے شغف رکھتے ہیں اور عذاب الہی سے خوف و وحشت رکھتے ہیں اور اپنے ماں باپ کا احترام کرتے ہیں، اسی طرح سے میں اس عالم کا بھی دشمن ہوں کہ جو اپنے علم کے ذریعہ عمل کرتا ہے اور اس کا بھی دشمن ہوں جو کار خیر سے منہہ نہیں پھیرتا۔
بقیہ ا.ا.م آئندہ

Post a Comment

To be published, comments must be reviewed by the administrator *

جدید تر اس سے پرانی