ناصبی سے كیا ﻣﺮﺍﺩ ہے.؟ ۱

سوال: كيا شيعہ حضرات اهلسنت کو ناصبي شمار کرتے ہیں يا نہیں؟



مترجم: اعظمی بریر ابو دانیال

مختصر جواب:
ناصبی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اہلبیت (ع) کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے یا انہیں برا کہتا ہے یا گالی دیتا ہے اور شیعہ حضرات کسی بھی دلیل کے بغیر اہلسنت کو باصبی ہرگز نہیں کہتے ہیں چونکہ یہ لوگ اہلبیت ع کے محب ہیں اور دشمنان آل محمد (ص) کو کافر شمار کرتے ہیں.

تفصیلی جواب:
مقدمہ جواب کے واضح و روشن ہونے کیلئے اس مقدمہ میں ہم چند نکات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں:
آیات قرآنی:
۱- قرآن کریم فرماتا ہے: جس چیز کے سلسلہ میں اطلاع و خبر نہیں رکھتے ہو اس کیلئے اظہار نظر نہ کرو:
«لَا تَقفُ ﻣَﺎ ﻟَﻴﺲَ ﻟَﻚَ ﺑِﻪِ ﻋِﻠﻢ...‏»
[بنی ﺍﺳﺮﺍئیل .36]
جس چيز کا تمہیں علم نہیں ہوتا ہے اس کی پیروی نہ کرو کیونکہ کان و آنکھ اور دل سے سوال کیا جائے گا کہ یہ کون سے امور انجام دیتے رہے ہیں یعنی اعمال کے سلسلہ میں پوچھا جائے گا.
۲- محبت اهلبیت یعنی ذوی القربیٰ کا مسئلہ اور ان کہ دشمنی سے پرہیز کرنے کے سلسلہ میں فریقین یعنی شیعہ و سنی میں اتحاد پایا جاتا ہے چونکہ قرآن مجید نے بھی اس بارے میں تاکید کی ہے نیز عامہ کی روایات میں تائید ملتی ہے.
جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
"ﻗُﻞ لَا أَﺳﺌَﻠُﻜُﻢ ﻋَﻠَﻴﻪِ أَﺟﺮﺍً إِلَّا ﺍﻟﻤَﻮَﺩَّﺓَ ﻓِﻲ ﺍﻟﻘُﺮﺑﻲٰ"
‏[ﺷﻮﺭﻱ .23]
اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ میں اجر رسالت کے بدلہ میں کچھ سوال نہیں کرتا مگر یہ کہ تم میرے قرابتداروں یعنی اهلبیت سے مودت اختیار کرو اور جو شخص بھی نیک کام انجام دے گا تو ہم اس کی نیکی میں اضافہ کریں گے اور بعض دیگر آیات میں بھی تذکرہ ملتا ہے.
[ﺳﺒﺎﺀ 47 ﻭ ﻓﺮﻗﺎﻥ .57]

★ ﺭﻭﺍﻳﺎﺕ اهلسنت:
اهلسنت کی کتابوں میں بعض حصے میں دو طرح کی روایات منقول ہوئی ہیں جسے ہم یہاں پر بطور مثال پیش کر رہے ہیں.:
۱- ﺍهلبیت (ع) کی محبت میں روایات:
١- ﺯﻣﺨﺸﺮی اپنی کتاب میں پیغمبر اسلام (ص) سے یہ حدیث نقل کرتے ہیں:
"أﻻ ﻭ ﻣﻦ ﻣﺎﺕ ﻋﻠﻲٰ ﺣﺐّ ﺁﻝ ﻣﺤﻤّﺪ ﻣﺎﺕ ﺷﻬﻴﺪﺍً"
‏[ﺯﻣﺨﺸﺮﻱ، ﺍﻟﻜﺸﺎﻑ، ﺩﺍﺭ ﺍﻟﻜﺘﺎﺏ ﺍﻟﻌﺮﺑﻲ، 1407ھ 1987 ﻡ، 4/ .220]
آگاہ ہو جاؤ! جو شخص آل محمد (ص) کی محبت پر مرتا ہے وہ شہید مرتا ہے….. بخشا ہوا، توبہ کرنے والا مومن اس دنیا سے جاتا ہے اور ملک الموت اسے جنت کی بشارت دیتے ہیں اور اسے اس طرح بہشت کی طرف لے جاتے ہیں جیسے دلہن کو لے جایا جاتا ہے اور قبر میں اس کیلئے جنت کی طرف دو در کھول دیتے ہیں اور اس کی قبر میں رحمت کے فرشتے زیارت کیلئے آتے ہیں.
‏[حواله سابق، ﺣﺪﻳﺚ کے آخری حصہ كو بطور تلخیص نقل کیا ہے.‏]
٢- پیغمبر ‏اکرم (ﺹ) نے ﻓﺮمایا: "ﻣﻌﺮﻓﺔ ﺁﻝ ﻣﺤﻤﺪ ‏(ﺹ‏) ﺑﺮﺍﺋﺔ ﻣﻦ ﺍﻟﻨﺎﺭ، ﻭ ﺣﺐ ﺁﻝ ﻣﺤﻤﺪ ‏(ﺹ‏) ﺟﻮﺍﺯ ﻋﻠﻲ ﺍﻟﺼﺮﺍﻁ ﻭ ﺍﻟﻮﻻﻳﺔ ﻵﻝ ﻣﺤﻤﺪ ‏(ﺹ‏) ﺍﻣﺎﻥٌ ﻋﻦ ﺍﻟﻌﺬﺍﺏ"
[ﺣﺎﻓﻆ ﺳﻠﻴﻤﺎﻧﻲ ﻗﻨﺪﻭﺯﻱ، ﻳﻨﺎﺑﻴﻊ ﺍﻟﻤﻮﺩﺓ ‏(ﻣﻜﺘﺒﺔ ﺑﺼﻴﺮﺗﻲ ﻗﻢ‏) ﺹ .22]
آل محمد کی معرفت جہنم کی آگ سے برائت کا ذریعہ ہے اور آل محمد کی محبت پل صراط سے گذرنے کا پروانہ ہے اور آل محمد کی ولایت عذاب الہی کا امان نامہ ہے.
۲- ﺍهلبیت (ع) کے بغض میں روایات
۱- پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:
"أﻻ ﻭ ﻣﻦ ﻣﺎﺕ ﻋﻠﻲ ﺑﻐﺾ ﺁﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺎﺕ ﻛﺎﻓﺮﺍً"
آگاہ ہو جاؤ! اور جو شخص آل مھمد کے بغض میں مر جائے تو وہ کافر کی موت مرتا ہے اور وہ بہشت کی خوشبو تک بھی نہیں سونگھے گا.
[ﻛﺸﺎﻑ ‏(حوالہ سابق) 4/ .221]
۲- رسولخدا ‏(ﺹ‏) نے ﻓﺮمايا ہے:
"ﻋﻠﻲ ﺧﻴﺮ ﺍﻟﺒﺸﺮ ﻣﻦ أﺑﻲ ﻓﻘﺪ ﻛﻔﺮ"
ﻋﻠﻲ بہترین بشر ہے تو جس نے انکار کیا پس بتحقیق وہ کافر ہوا.
‏[ﻋﻼﺀ ﺍﻟﺪﻳﻦ ﻋﻠﻲ ﺍﻟﻤﺘﻘﻲ ﺍﻟﻬﻨﺪﻱ، ﻛﻨﺰﻝ ﺍﻟﻌﻤﺎﻝ ﻓﻲ ﺳﻨﻦ ﺍﻻﻗﻮﺍﻝ ﻭ ﺍﻻﻓﻌﺎﻝ ‏(ﻣﺆﺳﺴﺔ ﺍﻟﺮﺳﺎﻟﺔ، ﺑﻴﺮﻭﺕ، 1405ھ 1915 ﻡ، 11/ .610‏]

Post a Comment

To be published, comments must be reviewed by the administrator *

جدید تر اس سے پرانی