مومن کی توہین کرنے سے بچئے - ۲

۲- ﻣﻮﻣﻦ کی تحقیر کرنا



مترجم: اعظمی بُرَیر ابو دانیال

مومن کی بے حرمتی کے مصادیق میں سے ایک مصداق اس کی تحقیر کرنا ہے.
آجکل کے معاشرہ کی سب سے بڑی آفت دولتمندوں کے ذریعہ غربا و فقرا کی توہین کرنا ہے.
ہمارے آج کل کے معاشرہ کی سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ دولتمندوں کی طرف سے مومن فقرا کی تحقیر ہو رہی ہے. جو موجودہ انسانی سماج کی آفتوں میں سے ایک ہے یہاں تک کہ اسلامی ممالک میں بھی سماج کے اندر یہی خرابی پائی جاتی ہے کہ دولتمند و سماجی اثر و رسوخ والے افراد میں بھی بعض ممکن ہے دوسروں کی تحقیر کرتے ہیں.
قرآن کریم نے ایسے افراف کیلئے وضاحت کے ساتھ خبردار کرتے ہوئے ارشاد ربانی ہے: ‏«ﺇِﻥَّ ﻗَﺎﺭُﻭﻥَ ﮐَﺎﻥَ ﻣِﻦْ ﻗَﻮْﻡِ ﻣُﻮﺳَﻰ ﻓَﺒَﻐَﻰ ﻋَﻠَﯿْﻬِﻢْ ﻭَﺁﺗَﯿْﻨَﺎﻩُ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﮑُﻨُﻮﺯِ ﻣَﺎ ﺇِﻥَّ ﻣَﻔَﺎﺗِﺤَﻪُ ﻟَﺘَﻨُﻮﺀُ ﺑِﺎﻟْﻌُﺼْﺒَﺔِ ﺃُﻭﻟِﯽ ﺍﻟْﻘُﻮَّﺓِ ﺇِﺫْ ﻗَﺎﻝَ ﻟَﻪُ ﻗَﻮْﻣُﻪُ ﻟَﺎ ﺗَﻔْﺮَﺡْ ﺇِﻥَّ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﻟَﺎ ﯾُﺤِﺐُّ ﺍﻟْﻔَﺮِﺣِﯿﻦَ.» [ﺳﻮﺭﻩ ﻗﺼﺺ، ﺁﯾﻪ 76] جناب موسی نبی (ع) کی قوم میں سے ایک فرد  ﻗﺎﺭﻭﻥ بھی تھا پس اس نے اپنی قوم کا باغوی ہوا، ہم اسے اس قدر خزانے میں سے دیئے کہ جن کی کنجیاں اٹھانے کیلئے ایک طاقتور گروہ تشکیل دیا تھا.! (اس وقت کو یاد کرو) جب اس کی قوم نے اسے خطاب کرتے ہوئے کہا: ‏«یہ مغرورانہ خوشی مت مناؤ کہ خداوند عالم مغرور خوشی منانے والوں سے محبت نہیں کرتا.»!

ﺁیت کی وضاحت

مذکورہ بالا آیت سے تو ہمیں یہی پتہ چلتا ہے کہ قارون مالداری بھی ہوتا ہے اور اس کی فقرا کے سلسلہ میں اچر و رسوخ اور فقرا کی تحقیر بھی اس کے غرور کی بنا ہر ظاہر ہو رہی ہے اور مبغوض ہونا مغرور خوشحال رہنے والا ہے اور بے درد مالداروں کا دولت جمع کرنا اللہ کے نزدیک بالکل ہی واضح ہے.

ﻣﻮﻣﻦ کی تحقیر کرنے کا انجام

خداوند عالم کی ﺩشمنی ان ہی مال داروں و ثروتمندوں سے ہیں جو فقرا کی تحقیر کرتے ہیں نیز شدت کے ساتھ رسوائی و فضیحت کے مقام پر قرار دیتے. چنانچہ امام صادق (ع) اپنے آبا و اجداد سے ایک حدیث نقل فرماتے ہیں: پیغمبر اسلام (ص) کی حدیث کو نقل فرماتے ہیں: «جو کوئی بھی کسی مومن کو اس کی تنگدستی اور غربت کی خاطر ذلیل و خوار سمجھے گا یا اس کی تحقیر کرے گا تو خداوند عالم  قیامت کے روز اسے ذلیل و رسوا کرے گا.». [ﻭﺳﺎﺋﻞ ﺍﻟﺸﯿﻌﻪ، ﺗﺮﺟﻤﻪ: ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﻓﺎﺭﺍﺑﯽ، ﺑﺎﺏ ۱۴۶، ﺡ ۶]

ﻣﻮﻣﻦ کی بے عزتی کا انتقام لینے والا فقط خدا ہے

یہ بات قابل ذکر ہے کہ فقیر کی اس تحقیر و ﺭﺳﻮﺍﯾﯽ کا یہی ایک نتیجہ ہے کہ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام "منتقم" بھی ہے.
چنانچہ اس سلسلہ میں قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: ‏«ﻓَﻠَﺎ ﺗَﺤْﺴَﺒَﻦَّ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﻣُﺨْﻠِﻒَ ﻭَﻋْﺪِﻩِ ﺭُﺳُﻠَﻪُ ﺇِﻥَّ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﻋَﺰِﯾﺰٌ ﺫُﻭ ﺍﻧْﺘِﻘَﺎﻡٍ.‏» [ﺳﻮﺭﻩ ﺍﺑﺮﺍﻫﯿﻢ، ﺁﯾﻪ ۴۷.] 
ﯾﻌﻨﯽ: ‏«پس تم گمان بھی مت کرو کہ خدا کے پیغمبروں سے کئے ہوئے وعدہ کی مخالفت کرو گے! کیونکہ بیشک اللہ صاحب قدرت انتقام لینے والا ہے.»
ﺁﯾﻪ ﻣﺒﺎﺭﮐﻪ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کا وعدہ مخالفت کے قابل ہوتا ہی نہیں ہے اور اللہ کا انتقام لینا بھی امر مخالفت بھی نہیں ہو سکتا اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ جس امر کو انجام دینا تخلف کا سبب نہ بنتا ہو تو یقیناً اس کا اجرا بھی قابل عمل ہوتا ہے چونکہ خداوند عالم ہر امر پر قدرت رکھتا ہے اور جس وقت بھی خدا کسی کو بھی رسوا یا مفتح کرنا چاہے گا تو تاخیر ہونا ممکن ہی نہیں ہے اور وہ امر یقیناً واقع ہو ہی جائے گا.

فقیر ﻣﻮﻣﻦ کی تحقیر کرنا

امام صادق (ع) نے اسی کے مثل دوسری حدیث میں مروی ہے کہ فرمایا: "ہرگز مومن کسی بھی فقیر کو حقیر اور ادنی تصور نہیں کرتا کیونکہ جو کوئی مومن کو معمولی اور پست شمار کرے گا تو خداوند عالم کو اس حقارت کی بنسبت ہمیشہ غضبناک پائے گا. یہاں تک کہ وہ مومنین کو حقیر سمجھنے سے دستبردار ہو جائے اور ان کا احترام کرے یا یہ کہ توبہ کرے."

Post a Comment

To be published, comments must be reviewed by the administrator *

جدید تر اس سے پرانی