رزق و روزی میں اضافہ کیلئے معصومین (ع) سے مروی دس اعمال
تحریر: علی رضا پیوگانی
ترجمه: اعظمی بریر ابو دانیال
اگر آپ یہ چاہتے ہو کہ زندگی میں فقیری اور معیشت میں سختی سے دچار نہ ہو سکو اور آپ کہ جیبیں ہمیشہ پیسوں سے بھری ہوئی ہوں تو ہم آپ کی خدمت میں یہ ۱۰ اعمال کی تجاویز بالکل ہی سادہ زبان میں پیش کرتے ہی جو چہاردہ معصومین ع کی احادیث کو مد نطر رکھتے ہوئے اخذ کیا ہے نیز ان سے ہم بھی غفلت کی بنا پر انجام دینے سے محروم رہتے ہیں.
بہت سی قرآن کی آیات اور ائمہ معصومین (ع) کی روایات میں روزی و رزق کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں اور اس بارے میں بہت ہی زیادہ تاکیدات و سفارشات ہم تک پہونچی ہے جس میں سے روزی نہ پہونچنے کے بعض موانع کا بھی تذکرہ کیا جاتا ہے اور بعض دیگر عوامل کا ذکر جو رزق و روزی میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے انہیں بھی بیان کیا گیا ہے.
البتہ بہتر ہے کی آپ ان عوامل کو معیشت میں اضافہ کرنے والے کی حیثیت سے انہیں پہچانئے اور جانئے جن کا تذکرہ معصومین (ع) کی روایات سے نقل ہوا ہے یہ مادی رزق کو بھی شامل ہوتا ہے اور معنوی روزی کو بھی زیادی کرنے کا باعث ہوتا ہے.
اب ہم روزی و رزق میں افزائش کی روایات کے دس امور کو مختصر طور پر تحریر کر رہے ہیں.
۱- مہارت اور استقامت کے مالک بنئے:
روزی میں اضافہ کا ایک اہمترین عامل مہارت و مستقل مزاجی رکھنا ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ مہارت بھی رکھتے ہوں اور پھر اس کیلئے زحمت و مشقت بھی اٹھائیں. چند کلمات کے ذکر کو ادا کرنے یا نماز پڑھنے یا کوئی وظیفہ وغیرہ پڑھنے سے ہم یہ توقع رکھتے ہوں کہ ہمارے پاس پیسوں کی بہتات ہو جائے گے. رزق حلال کی تلاش و جستجو کی تہذیب و تمدن کو دینداری کے ستون کا اہمترین ستون شمار کرنا چاہئے کہ اس کے بغیر وہ اکیلا شخص نہ ہی اس دنیا میں سکون و آرام کی رنگینی کو دیکھ نہیں سکتا بلکہ خدا و رسول بھی اسے نظر انداز کر دیتے ہیں.
★ ابن عباس روایت بیان کرتے ہیں: جب کبھی رسولخدا (ص) کسی بھی شخص کو دیکھتے تھے اور اس سے خوش ہوتے تو پوچھتے تھے: کیا اس کے پاس کوئی صنعت و حرفت ہے.؟ اگر کسی نے جواب دیا: نہیں. تو آنجناب فرماتے تھے: وہ میری نظروں میں گر گیا ہے. یعنی اب اس کی کوئی بھی وقار و عزت میری نظر میں برقرار نہیں رہی.
[مستدرک الوسایل، 13/ 84]
۲- دن کا آغاز ہی کام سے ہی شروع کیجئے
قدیم دوکاندار لوگ صبح سویرے اپنی دکانوں کے دروازوں کو اوپر اٹھانے کے بارے میں ایک دوسرے سے مسابقہ و رقابت جیسا احساس رکھتے تھے لیکن آج کل کے اکثر مختلف مشاغل میں مصروف افراد تقریبا ظہر کے قریب اپنا کام کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے عملی جامہ پہناتے ہیں.
★ امیر مومنان (ع) فرماتے ہیں: «صبح سویرے اپنی روزی کی تلاش میں نکلو اس سے روزی میں اضافہ ہوتا ہے.»
[وسائل الشیعه، 15/ 348]
★ امام رضا (ع) نے بھی فرمایا ہے: «رزق کے فرشتے بنی آدم کو (ما بین طلوعین) طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک ہی روزی تقسیم کرتے ہیں جو شخص بھی ان اوقات میں بیدار ہوتا ہے انہیں ان کی روزی سے محروم نہیں رکھا جاتا.»
[وسائل_الشیعه ۶/ ۴۹۷]
۳- حتی الامکان اول وقت نماز پڑھئے
★ رسول اکرم (ص) نے فرمایا ہے: «کوئی ایک بندہ نہیں ہے کہ جو نماز کے اوقات اور سورج کے مقامات کو اہمیت دے گا مگر یہ کہ میں اس کیلئے تین چیزوں کی ضمانت لیتا ہوں: مصیبتیں اور بلاؤن کے دور ہونے، موت کے وقت آرام و خوشی اور جہنم کی آگ سے نجات حاصل کرنا.»
[سفینه البحار، 2/ 42]

ایک تبصرہ شائع کریں