بسمہ سبحانہ
امیر المومنینؑ اور عدالت
via IMAM HUSSEIN HOLY SHRINE
★ عمدۃ الواعظین مولانا ناظم علی واعظ خیرآبادی
خلفا کے زمانہ میں سب سے زیادہ توجہ طبقاتی نظام جاہلیت کی جانب کی گئی تھی جس کو پیغمبر اسلامؐ نے قرآن مجید کی سورہ حجرات کی آیت 13 کے مطابق تمامتر تفریق کو ختم کیا تھا اور بیت المال کو تمام مسلمانوں کے درمیان عدل کے ساتھ تقسیم کیا تھا جبکہ خلفا نے اپنی حکومت کے زمانہ میں لشکروں کی سرداری اور شہروں کی حکومت صرف قریش کے افراد کو دیتے تھے انصار کو لشکر کی سرداری نہیں دیتے تھےاور جب انصار نے شدت سے اعتراض کیا تو حالات کی خرابی کو دیکھتے ہوئے ثابت بن قیس کو کچھ وقت کیلئے لشکر کی سرداری دی۔
تقسیم مال میں بھی معاشرہ کو طبقوں میں تقسیم کر دیا بدر کے مجاہدوں کو پانچ ہزار درہم ، احد والوں کو چار ہزار، خندق والوں کو تین ہزار دیئے جبکہ پیغمبرؐ کی ازواج کو دس ہزار درہم اور عائشہ کو بارہ ہزار درہم سالانہ دیتے تھے۔
حضرت علیؑ نے عدالت قرآنی کو نافذ کرتے ہوئے خلفا ئے ثلاثہ کے طریقہ کے بر خلاف انصار کو لشکروں کی سرداری اور شہروں کی حکومت کیلئے معین کیا، قیس بن سعد بن عبادہ کو مصرکا گورنر، سہل بن حنیف کو بصرہ کا گورنر اور عثمان بن حنیف کو مدینہ کا گورنر بنایا اور غیر قریش میں سے مالک اشتر کو مصر کا گورنر مقرر کیا۔
امامؑ نے طبقاتی نظام کو ختم کرنے میں اس قدر کوشش کی کہ ایک دن اشعث بن قیس یمن کے بڑے قبیلہ کا سردار نے دیکھا کہ امامؑ کو غیر عرب چاہنے والے گھیرے بیٹھے ہیں تو اس نے نہایت غصہ میں کہا کہ امیر المومنینؑ یہ سرخ فام (ایرانی) لوگ ہمارے اور آپ کے درمیان حد فاصل بنے ہوئے ہیں حضرتؑ نے فرمایا کہ ان کے مقابلہ میں کون ہماری مدد کرتا ۔۔۔ آپؑ نے غیر عرب کو اسلامی معاشرہ سے دور کرنا قبول نہیں کیا۔
بیت المال کی تقسیم میں امامؑ نے اسی طریقہ کو جاری کیا جو پیغمبرؐ کا تھا چنانچہ اصفہان سے امامؑ کے پاس کچھ مال کوفہ لایا گیا تو آپؑ نے اس مال کو سات حصوں میں تقسیم کیا کیونکہ کوفہ میں سات قبیلے رہتے تھے اور ہر قبیلہ کا ساتواں حصہ دیدیا۔
یا ایک دوسرا واقعہ بھی ملتا ہے کہ کچھ مال امامؑ کے پاس لایا گیا تو آپ نے قبیلہ کے سرداروں کو بلایا اور سرداروں کو قبیلہ کا حصہ دیدیاکہ وہ اپنے قبیلہ والوں کے درمیان تقسیم کر دیں۔
علامہ مرتضی عسکریؒ نے اپنی کتاب ائمہ اہلبیتؑ اور ارتقائے دین (ترجمہ) میں ایک واقعہ نقل کیا ہے جو حضرت علیؑ کی عادلانہ روش کو واضح کرتا ہے:
ایک روز حضرت علیؑ مالک اشترؒ سے کہہ رہے تھے کہ لوگ مجھ سے دور ہو رہے ہیں اور معاویہ سے جاکر مل رہے ہیں، مالک اشتر نے عرض کیا: امیر المومنینؑ! ہم نے کوفہ کے ایک لشکر کے ساتھ ہو کر بصرہ کے لوگوں سے جنگ کی جبکہ دونوں کا عقیدہ ایک تھا لیکن بعد میں انہوں نے اختلاف کر لیا اور ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے ان کی نیتیں خراب ہوگئیں اور آپ کے سچے چاہنے والوں کی تعداد کم ہوگئی چونکہ آپ ان کے درمیان عدالت سے کام لیتے ہیں اور حق پر عمل کرتے ہیں اور ادنیٰ و اعلیٰ کے درمیان عدالت سے کام لیتے ہیں پس وہ گروہ جو آپ کے ساتھ تھا وہ اس عدالت سے رنجیدہ خاطر ہو گیا جبکہ معاویہ مالداروں اور دوسرے افراد کی اچھی خاطر مدارات کرتا ہے انہیں بالکل سیر کئے رہتا ہے لوگوں کے دل دنیا سے لگے ہوئے ہیں دنیا سے بے توجہ بہت کم ہیں تو اگر آپ بھی انہیں مال عطا کریں گے تو وہ آپ کی طرف آئیں گے ہمدرد بن جائیں گے دوستی ہوجائے گی آپ کیلئے جو بہتر ہے خدا وہ کرے اور دشمنوں کو ذلیل کرے ان کے مکرو فریب کو بے اثر کر دے۔ حضرت علیؑ نے یہ سن کر حمد و ثنائے الٰہی کے بعد فرمایا: جو کچھ تم نے میری عادلانہ روش کے بارے میں کہا ہے، اس کے بارے میں خدا فرماتا ہے:
"من عمل صالحاً فلنفسہ و من أسائ فعیلہا و ما ربک بظلام للعبید" (سورہ فصلت، آیت 46)
جو بھی نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا اور جو برا کرے خود اس کا ذمہ دار ہوگا آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
جو تم نے میرے بارے میں کہا ہے، میں اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں مجھ سے اس میں کوتاہی نہ ہوگئی نہ ہوگئی ہو اور جو تم نے کہا کہ حق لوگوں پر گراں گزرتا ہے اس لئے لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا ہے، خدا جانتا ہے کہ انہوں نے مجھ پر ظلم و ستم کی وجہ سے نہیں چھوڑا اور نہ کسی چیز کی طرف گئے ہیں سوائے اس فانی دنیا کے۔
اور جہاں تک تم نے بیت المال تقسیم کرنے کے سلسلہ میں اور لوگوں کی خاطر مدارات کے بارے میں کہا ہے تو میں بیت المال سے کسی کو اس کے حق سے زیادہ نہیں دے سکتا۔
دوسری روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت علیؑ کے اصحاب کی ایک جماعت آنحضرتؑ کی خدمت میں آئی اور کہا: اے امیر المومنینؑ! اس مال سے عرب کے بزرگوں ، قریش اور جن کے فرار ہونے اور مخالفت کرنے سے آپ ڈر رہے ہیں، ان کے غلاموں اور عجمیوں سے زیادہ دیجئے۔ یہ بات انہوں نے اس لئے کہی تھی کہ معاویہ اسی طرح سے کرتا تھا ۔۔۔ جواب میں حضرت علیؑ نے فرمایا: کیا تم لوگ مجھے اس بات پر مجبور کر رہے ہو کہ میں کامیابی ظلم و ستم کے ذریعہ حاصل کروں، خدا کی قسم جب تک سورج نکلتا رہے گا، ستارے آسمان پر ظاہر ہوتے رہیں گے میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا۔
خدا کی قسم! اگر یہ بیت المال کا مال میرا ہوتا تو میں ان کے درمیان عدالت سے تقسیم کرتا جبکہ یہ تو خود انہیں کا ہے۔
آخر میں مندرجہ ذیل واقعہ امامؑ کی عدالت کو اجاگر کرنے کیلئے کافی ہے، جسے صاحب وسائل الشیعہ نے جلد نمبر 11 میں تحریر کیا ہے۔
"مرّ شیخ مکفوف کبیر یسأل، فقال أمیر المومنینؑ ما ہذا؟ قالو: یا أمیر المومنین! نصرانی، فقال أمیر المومنینؑ: إستعملتموہ حتیٰ إذا کبر و عجز منعتموہ؟ أنفقوا علیہ من بیت المال"
ایک بوڑھا نابینا شخص لوگوں کے درمیان سوال کرتا ہوا گزررہا تھا تو امیر المومنینؑ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ نصرانی ہے، آپؑ نے فرمایا کہ جب تک اس کے جسم میں طاقت تھی تم نے اس سے کام لیا اور جب مجبور ہو گیا تو اسے چھوڑ دیا اس کا خرچ بیت المال سے دو۔
"إن اللہ یأمر بالعدل و الإحسان و إیتاء ذی القربی"

ایک تبصرہ شائع کریں