مترجم: اعظمي بُرَیر ابو دانیال
★ سوال:کیوں عمر کے قاتل کی قبر کیلئے ایران میں زیارتگاہ بنائی گئی ہے.؟؟؟
🚨 مختصر جواب:
فیروز یا ابو لولو (جس کے سلسلہ میں خلیفہ دوم کے قتل کی نسبت دی جا رہی ہے) وہ تاریخ میں ایک مبہم شخصیت ہے.
★ تاریخی کتابوں میں اس کے دین و مذہب کے بارے میں بعض سنی علما کا خیال ہے کہ یہ زرتشتی یا مجوسی تھا. [ذهبی، شمس الدین، سیر أعلام النبلاء، 2/ 416، دار الحدیث، قاهرة، 1417ق؛ مسعودی، ابو الحسن علی بن الحسین، مروج الذهب و معادن الجوهر، تحقیق: داغر، اسعد، 2/ 320، دار الهجرة، قم، چاپ دوم، 1409 ق.]
★ اور بعض سنی علما کا خیال ہے کہ یہ نصرانی یا عیسائی تھا. [مالقی اندلسی، محمد بن یحیى، التمهید و البیان فی مقتل الشهید عثمان، محقق: زاید، محمود یوسف، ص 36، دار الثقافة، دوحة، چاپ اول، 1405 ق؛ طبری، أحمد بن عبد الله، الریاض النضرة فی مناقب العشرة، 2/ 408، دار الکتب العلمیة، بیروت، چاپ دوم، بیتا؛ ابن عبد البر، یوسف بن عبد الله، الاستیعاب فی معرفة الأصحاب، تحقیق: البجاوی، علی محمد، 3/ 1155، دار الجیل، بیروت، چاپ اول، 1412 ق.]
قتل عمر کے محرکات کے سلسلہ میں اکثر کتابوں میں یہی رقم کیا جا رہا ہے: مغیرہ بن شعبہ نے ایک خط کے ذریعہ عمر سے مطالبہ کیا کہ ابو لؤلؤ کو کوفہ بھیجے تا کہ اس کی صنعت و حرفت کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے جیسے لوہار و بڑھئی اور مصوری کے پیشوں و مشاغل میں مہارت رکھتا تھا، عمر نے اس کی درخواست کو تسلیم کیا چند روز کے بعد ابو لولو سے بہت بڑی رقم مغیرہ (روزانہ دو درهم یا ایک ماهانہ سه درهم) اس سے لینے لگا تھا. تب اس نے عمر سے شکایت کیا لیکن عمر نے اس کی شکایت کو اہمیت نہ دیتے ہوئے رد کر دیا اور ان دونوں یعنی ابو لولو اور عمر کا اختلاف لڑائی جھگڑے تک پہونچ گیا. کچھ مدت کے بعد ابو لؤلؤ نے ایک خنجر عمر کو مارا جو ان کے قتل پر ختم ہوا. [مروج الذهب، 2/ 320؛ ابن اثیر جزری، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، 3/ 49 – 50، دار صادر، بیروت، 1385 ق؛ ابن اعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، تحقیق: شیری، علی، 2/ 323 – 324، دار الاضواء، بیروت، 1411 ق؛ التمهید و البیان فی مقتل الشهید عثمان، ص 36.]
بعض مؤرخین نے اس کے حالات اور زندگی کے آخری لمحات کے بارے تذکرہ کیا ہے کہ عمر کے قتل کے بعد گرفتار ہوا اور (قصاص میں) قتل کیا. [ابن الطقطقى، محمد بن على بن طباطبا، الفخرى فى الآداب السلطانیة و الدول الاسلامیة، تحقیق: محمد مایو، عبد القادر، ص 101، دار القلم العربى، بیروت، چاپ اول، 1418 ق.]
بعض علما نے کہا ہے کہ عبید الله بن عمر نے اپنے باپ کے قصاص کے طور پر ابولؤلؤ کو اس کی بیٹی اور دوسرے دو ایرانیوں کو جنہیں هُرمُزان و جُفَینه کے نام سے پکارا جاتا تھا ان چار افراد کو قتل کر دیا. [ذهبی، محمد بن احمد، تاریخ الإسلام، تحقیق: تدمری، عمر عبد السلام، 3/ 306 – 307، دار الکتاب العربی، بیروت، چاپ دوم، 1409ق؛ ابن حبان تمیمی، محمد بن حبان، الثقات، 2/ 240، دائرة المعارف العثمانیة، حیدر آباد هند، چاپ اول، 1393 ق؛ ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد، دیوان المبتدأ و الخبر فی تاریخ العرب و البربر و من عاصرهم من ذوی الشأن الأکبر (تاریخ ابن خلدون)، تحقیق خلیل شحادة، 2/ 570، بیروت، دار الفکر، چاپ دوم، 1408 ق.]

ایک تبصرہ شائع کریں