كيا ابو لؤلؤ کی قبر کاشان میں ہے.!؟ 2


کیا عمر کے قاتل ابو لؤلؤ کی قبر کاشان میں ہے.!؟؟؟


★ سوال: کیوں عمر کے قاتل کی قبر کیلئے ایران میں زیارتگاہ بنائی ہے.؟؟؟

🚨 مختصر جواب:
فیروز یا ابو لولو (جس کے سلسلہ میں خلیفہ دوم کے قتل کی نسبت دی جا رہی ہے) وہ تاریخ میں ایک مبہم شخصیت ہے.

اس کے جنازہ کے سلسلہ میں قدیم کتابوں میں دقیق و تفصیلی معلومات و اطلاعات موجود نہیں ہے. متاخر کے مورخین میں سے بعض نے کہا ہے: «شیعہ روایت کے مطابق ابو لؤلؤ فیروز مدینہ سے بھاگ کر عراق کی طرف آیا اور کاشان میں اس کی وفات ہوئی.».
[خواند میر (متوفی 942 ق)، غیاث الدین بن همام الدین، تاریخ حبیب السیر، ‏1/ 489، خیام، تهران، چاپ چهارم، ‏1380 ش.]‏
بهر حال جو ایک قدیم مقبرہ اس کی طرف منسوب کاشان میں تعمیر کیا گیا ہے اس کے بارے میں ہم یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ اسی ابو لولو فیروز کا ہی مزار ہے. کیونکہ مورخین نے مدینہ میں ہی ابو لؤلؤ کو اس کے خاندان اور دوستوں کو کس طرح قتل کیا گیا ہے اس واقعہ کو نقل کیا ہے جس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے.
[رجوع کیجئے: ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابة فی تمییز الصحابة، تحقیق: عبد الموجود، عادل احمد، معوض، علی محمد، ‏6/ 449، دار الکتب العلمیة، بیروت، چاپ اول، 1415 ق؛ مقدسی، مطهر بن طاهر، البدء و التاریخ، ‏5/ 92، مکتبة الثقافة الدینیة، بورسعید، بی‌تا؛ مروج ‏الذهب، ‏2/ 379.
مزید یہ کہ بہت زیادہ دلائل پائے جاتے ہیں اس کی قبر کاشان میں ہرگز نہیں ہے. جن میں سے چند دلیلوں کا تذکرہ ہم ذیل میں کر رہے ہیں:
1. مدینہ سے کاشان کا فاصلہ اتنا طولانی ہے کہ میت کے بدن میں تعفن کا سبب ہو جاتا.
2. اس کا اصل وطن تو نہاوند کا ذکر ملتا ہے. نہ کہ کاشان.
3. شیعوں کی معتبرترين قدیم تاریخی کتابوں میں ایسا کوئی بھی ثبوت نہیں ملتا کہ کاشان میں جو قبر ہے وہی عمر کے قاتل کی ہے. ایسا کچھ بھی منقول نہیں ہے.
[رجوع کيجئے: دائرة المعارف بزرگ اسلامی، ابو لؤلؤ؛ دانشنامه تشیّع.]
اسی طرح ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں: قدیم ایرانیوں نے کاشان میں ابو لؤلؤ کی یاد میں ایک عمارت تعمیر کیا تھا، نہ کہ اس کی قبر ہی وہاں پر ہے اور پھر کاگی زمانہ گزرنے کے بعد مشابہت کی بنا پر ابو لؤلؤ کے نام سے نشہوت ہو گئی. یہ عمارت بالکل ویسے ہی یادگار کے طور پر تعمر ہوئی ہے جیسے افغانسان کے ہرات شہر میں امام على بن ابیطالب (ع) کی یاد میں مزر تعمیر کیا ہے، ایران کے شہر سرخس کے مزدوران میں طفلان مسلم کا مزار اور طوس میں ایوان ابو مسلم کے نام سے عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں.
[رجوع کیجئے: مقدسی، محمد بن أحمد، أحسن التقاسيم في معرفة الأقاليم، ترجمه: منزوى، على نقى، ‏1/ 65 (حاشیہ)، شرکت مولفان و مترجمان ایران، تهران، چاپ اول، 1361 ش؛ رازی، ابو علی مسکویه، تجارب الأمم، ترجمه منزوى، على نقى، ‏6/ 229 (حاشیہ)، تهران، توس، 1376 ش.]
 نتیجہ: ممکن ہے کہ نام کی مشابہت اتفاقی ہے اور ابو لولو کی قبر کاشان میں ہرگز نہیں ہے پس یہ ثابت ہوا کہ اسے تو مدینہ میں قتل کیا گیا تھا تو لاش یہاں تک کیسے پہونچ سکتی ہے.
تمت الخیر و به نستعین و هو خیر المعین

Post a Comment

To be published, comments must be reviewed by the administrator *

جدید تر اس سے پرانی