کیا ﺭﺳﻮلخدﺍ (ﺹ) بی بی ﻋﺎﺋﺸﻪ کے حجرہ میں مدفون ہیں؟
Image by Abdullah Shakoor from Pixabay
مترجم: اعظمی بریر ابو دانیال
ﻓﻀّﺎﻝ كا ﺍﺑﻮ ﺣﻨﻴﻔﻪ كے ساتھ مناظرہ:
ﺷﺎئد ممکن ہے کہ ایک لطیف و ظریف نکتہ جبکہ جامعترین کلمات کو اسی موضوع کی خصوصیت کے سلسلہ میں ہم امام صادق (ع) کے شاگرد رشید فضّال کا ابو حنیفہ کے ساتھ مناظرہ کی صورت میں تحریر کر رہے ہیں جو کہ ایک بہترین دلیل ثابت ہوتا ہے کہ ابو بکر و عمر کے دفن ہونے کی جگہ کے غصبی ہونے کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے.
★ فضّال و ابو حنیفه کا مناطرہ:
ایک ﺭﻭﺯ "ﻓﻀّﺎﻝ ﺑﻦ ﺣﺴﻦ بن ﻓﻀّﺎﻝ ﻛﻮﻓﻲ" اپنے کسی دوست کے ساتھ ابو حنیفہ سے گفتگو ہوئی اس حالت میں کہ ان کے بہت سے فقہ و حدیث کے شاگرد حضرات بھی ان کے ارد گرد موجود رہے تھے.
فضّال نے اپنے دوست سے کہا: اللہ کہ قسم میں ان سے دست بردار نہیں ہونے والا مگر یہ کہ وہ آگے جاؤں گا اور ان کے سر کو نیچا کروں گا.
اس کے دوست نے کہا: تم تو ابو حنیفہ کو تو پہچانتے ہو اور ان کی علمی قدر و منزلت کی بنا پر احجتاج کے طریقہ سے بھی با خبر ہو.
فضّال نے کہا: تم تو خاموش ہی رہو! کوئی بھی گمراہی کی دلیل کا نظریہ کبھی بھی مومن کی دلیل و حجت کے نظریہ پر سر بلندی قائم نہیں رکھ سکتا.؟
فضّال آگے بڑھے اور سلام کیا، تو حاضرین کے مجمع نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا.
فضّال ابو حنفیہ کہ طرف متوجہ ہوئے اور کہا: خدا کی آپ پر رحمت ہو! میرا ایک بھائی جو یہ کہتا ہے: رسولخدا (ص) کے بعد مخلوق میں سے افضل ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺍبیطالب (ع) ہیں. لیکن میں اسے کہاتا ہوں: اس طرح نہیں ہے بلکہ رسول اکرم (ص) کے بعد اب سے افضل ابو بکر ہیں اور ان کے بعد عمر ہیں پس اس سلسلہ میں آپ کا کیا نظریہ ہے.؟
ابو حنیفہ کچھ دیر فکر میں غرق رہے اور پھر سر اٹھا کر کہا: (ان سے کہا) ابو بکر و عمر کے مقام و منزلت میں یہی کافی ہے کہ یہ دونوں افراد کی قبریں پیغمبر اسلام (ص) کی قبر مبارک کے پاس ہی واقع ہے. (جبکہ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺍبیطاﻟﺐ(ع) کو فرسخوں دور نجف اشرف میں دفن کیا گیا ہے اور آج بھی آنحضرت (ع) وہیں پر قبر مبارک ہے.) کیا حضرت علی (ع) پر ان شیخین کی افضلیت و برتری کیلئے اس سے بہتر دلیل و برہان ہے.؟
فضّال نے کہا: میں نے بھی (اتفاقاً) یہی نکتہ اس سے بیان کیا لیکن اس نے مجھ سے (یہ) کہا: اللہ کی قسم! اگر ان دو افراد کا پیغمبر خدا (ص) کے پاس دفن ہونا ہی ان کیلئے حقانیت و فضلیت کی دلیل بیان کرنا چاہتے ہو تو اس سلسلہ میں یہی کہنا چاہوں گا کہ شیخین (قبر رسول اعظم (ص) کے پاس) اس جگہ پر دفن ہونے کے بارے میں کچھ بھی حق رکھتے نہیں ہیں بلکہ انہوں نے حقیقت میں پیغمبر اعظم (ص) پر ظلم کیا ہے کیونکہ اگر وہ جگہ اگر خود ابو بکر و عمر کی (ملکیت) تھی اور اسی زمین کو رسول اعظم (ص) کو ہبہ یا تحفہ میں پیش کیا ہے تو پھر ان دونوں کا وہاں دفن ہونا تو بہت ہی برا عمل قرار پاتا ہے چونکہ اپنے آپ کو شیخین کے دفن ہونا تحفہ کو واپس لینے کے مترادف ہوگا کیونکہ پیغمبر (ص) کو جو زمین بخشی تھی اور آنحضرت بھی اس پر مکمل تصرف رکھتے تھے. لہذا یہ تو ایک طرح سے وعدہ خلافی اور اپنا عہد و پیمان ٹوڑنا قرار پائے گا.
ابو حنیفہ دوبارہ مختصر مدت کیلئے خاموش رہے اور سر کو جھکائے رکھا اور کہا: تم اپنے بھائی سے کہو! وہ جگہ نہ ہی شیخین کیلئے تھی اور نہ ہی رسولخدا (ص) کی خاطر تھی بلکہ اس زمیں پر جو عائشہ و حفصہ کا حق بنتا تھا اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ان دو کے والدوں کو اس سر زمیں میں دفن کیا گیا ہے.
فضّال نے ابو حنیفہ سے کہا: (ﺍﺗﻔﺎﻗﺎً) میں نے بھی اسی مطلب کو اپنے بھائی سے بیان کیا لیکن اس نے بھی مجھے جواب میں کہا: تم جانتے ہی ہو کہ جب رسولخدا (ص) اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کی ۹ ازواج موجود تھیں اور شوہر کی میراث میں زوجہ کا فقط (از روئے قرآن حکیم ثُمُن) یعنی آٹھواں حصہ سے زیادہ ان کا حق بنتا ہی نہیں ہے جس کے نتیجہ میں ہر ایک زوجہ کو ایک بالشت طول، ایک بالشت عرض یعنی ایک بالشت مربع زمین سے زائد نبی اکرم (ص) کے حجرہ کی میراث میں حق مقرر نہیں ہوگا. تو ایسے حالات میں کس طریقہ سے وہ دو افراد اتنے زیادہ رقبہ میں قابض ہو کر اسے غصب کر بیٹھے ہیں.؟
ادھر دوسری طرف کیا ہو رہا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی بیٹی جناب فاطمہ زہرا (س) کو اپنے ہی والد کی میراث سے محروم رکھا جاتا ہے. (ابو بکر اسی کو بہانہ بنا کر کہ انبیا اپنی میراث نہیں چھوڑتے ہیں کی بنا پر جناب فاطمہ زہرا (س) کو میراث سے محروم رکھتے ہوئے فدک کو ضبط کر لیتے ہیں) لیکن عائشہ و حفصہ کو رسولخدا (ص) کی زوجہ ہونے کی حیثیت سے انہیں میراث دی جاتی ہے. (جبکہ بیٹی میراث پانے میں سب سے (اقرب) قریب ہوتے ہوئے انہیں محروم رکھا گیا اور (ابعد) بعید والوں کو میراث دیا جاتا ہے.)
ابو حنیفہ نے جب ان کلمات کو سنا تو اپنے اطراف کے شاگردوں سے کہا: اے لوگو! اسے مجھ سے دور کرو یا ہٹاؤ یہ تو خود ہی رافضی خبیث لگتا ہے.
(جب شیعہ کے دلائل و براہین کا جواب اہلسنت کے پاس نہیں ہوتا ہے تو یہ لوگ سبّ و شتم یا گالم گلوچ یا پھر مغلظات و لنگڑی لولی دلیلیں یا لیپا پوتی یا مد مقابل کی تذلیل و تمسخر کرنے لگتے ہیں یا پھر تکفیر یا غیر مسلم یا دین اسلام سے خارج ہونے کا فتوا لگانے لگتے ہیں.) (ﺍﻟﻔﺼﻮﻝ ﺍﻟﻤﺨﺘﺎﺭﻩ، ﺳﻴّﺪ ﻣﺮﺗﻀﻲ، ﺹ 74؛ ﻛﻨﺰ ﺍﻟﻔﻮﺍﺋﺪ، ﺍﺑﻮ ﺍﻟﻔﺘﻮﺡ ﻛﺮﺍﺟﻜﻲ، ﺹ 135؛ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﻃﺒﺮﺳﻲ 2/ 149؛ ﻭغيرهم)
ﻣﻮﻓﻖ ﺑﺎﺷﻴﺪ

ایک تبصرہ شائع کریں