بسمہ سبحانہ
امیر المومنینؑ اور عدالت
★ عمدۃ الواعظین مولانا ناظم علی واعظ خیرآبادی
یہاں اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ عدل کے معنی و مفہوم کی وضاحت کی جائے اور اس آئینہ میں امامؑ کی عدالت کے کچھ نمونوں کوپیش کیا جائے تاکہ قارئین کا ذہن حالات سے باخبر ہو کر قانون کی بالا دستی اور اس کے فوائد کا صحیح اندازہ کر سکے۔
عدل کے معنی "وَضعُ الشَّیءِ فِیْ مَحّلِّه" شئے کو اس کے مقام و محل میں رکھناہےاس کے مقابل میں لفظ ظلم ہے، احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ لفظ قِسط اور عَدل کا استعمال ایک ساتھ اور ظلم و جور کا مقابل میں استعمال ساتھ میں ہوا ہے۔ امام عصر (عجل ا۔۔۔فرجہ) کے ذریعہ خداوند عالم زمین کو قسط و عدل سے بھر دے گا:
"به یملأ اللہ الأرض قسطاً و عدلاً بعد ما ملئت ظلماً و جوراً"
عدل اور عقل کا ربط بھی بہت قریبی ہے بلکہ عقل کے بغیر عدل کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ عقل ہی وہ شئے ہے جو چیزوں کے محل کو پہچنواتی ہے اسی لئے امیر المومنینؑ سے جب عقل و جہل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:
"قیل له صف لنا العاقل، فقالؑ: هو الذی یضع الشیء مواضعه، فقیل فصف لنا الجاهل، فقالؑ: قد فعلت" (نہج البلاغة، کلمات قصار: 235)
آپ سے پوچھا گیا کہ عقلمند کے صفات بیان کیجئے، امامؑ نے فرمایا کہ عقلمند وہ ہے جو ہر شئے کو اس کے موقع و محل پر رکھے، پھر آپ سے سوال ہوا کہ جاہل کی صفت بیان کیجئے تو امامؑ نے فرمایا کہ میں نے بیان تو کردیا ۔
جامع نہج البلاغہ سید رضیؒ نے فرمایا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ جاہل وہ ہے جو کسی چیز کو اس کے موقع و محل پر نہ رکھے ترک صفت کرنا بیان صفت ہے جاہل عاقل کے بر خلاف ہوتا ہے۔
امیر المومنینؑ سے سوال کیا گیا کہ عدل بہتر ہے یا سخاوت تو امامؑ نے فرمایا:
"العدل یضع الأمور مواضعہاو الجود یخرجہا من جہتہا و العدل سائس عام و الجود عارض خاص فالعدل أشرفہما و أفضلہما" (کلمات قصار: 437)
عدل تمام امور کو ان کے موقع اورمحل پر رکھتا ہے اور سخاوت ان کو اس کے حدود سے باہر کر دیتی ہے، عدل سب کی نگہداشت کرنے والا ہے اور سخاوت اسی سے مخصوص ہوگی جسے دیا جائے لہٰذا عدل افضل و اشرف ہے۔
عدالت میں حدود کی تنگی اور سختی ہوتی ہے اس لئے اس کے مقررہ حدود سے آگے نہیں بڑھا جاسکتا ہے اسی طرح میں افراط و تفریط کاگذر نہیں ہوتا جبکہ سخاوت میں ایک لحاظ سے تجاوز ممکن ہے لیکن یہ تجاوز خیر کی جانب ہوتا ہے، شر سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا اسی وجہ سے روایات و احادیث میںاس کو فضل و کرم سے تعبیر کیا گیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ عمل کا انداز خیر کی جانب ہو تو تجاوز کے باوجود حکم میں خیر ہی پایا جاتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں