بسمہ سبحانہ
امیر المومنینؑ اور عدالت
via IMAM HUSSEIN HOLY SHRINE
★ عمدۃ الواعظین مولانا ناظم علی واعظ خیرآبادی
مزاج کا فساد، مرض کی شدت، بخار کی تیزی، طبیعت کی خرابی، جسمانی کیفیت کی ابتری، منفعت بخش، لذیذ اور قوت و طاقت عطا کرنے والی غذا کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے، اسی طرح ایمان کا فساد، بدعملی و بے عملی، اخلاقی گراوٹ، قوانین دین و شریعت کو عمل میں لانے سے نفرت کرنے لگتی ہے، نتیجہ میں فسادی اور مفسدہ نواز افراد خالق آدمؑ و عالم کے عادلانہ نظام سے دوری اخیتار کرتے ہیں اور الٰہی نظام عدل کے نفاذ کرنے والے عصمت مآب، مقدس، محترم اور معتبر افراد کے دشمن بھی ہوجاتے ہیں اور انہیں صفحۂ ارض سے مٹانے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
امیر المومنین حضرت علیؑ نے دور جاہلیت کی زندہ در گور کیفیت کو اور حکومتی ظالمانہ نظام کو بخوبی پہچانا تھا انہوں نے اپنے خطبوں، بیانات اور احادیث کے ذریعہ اس سے انسانوں کو باخبر بھی کیا اس سے دور رہنے، ترک کرنے اور مخالفت میں آواز بلند کرنے کی تاکید بھی کی موعظہ اور حکمت کے ذریعہ اس کے مہلک خطرناک نتائج اور عواقب سے آگاہ بھی کیا، عملی اقدام کے ذریعہ ضروری مواقع پر اس سے حفاظت بھی کی، وہ حقیقی جانشین رسول اکرمؐ تو منصوص من اللہ تھے ہی مگر حرص و ہوس کے بندوں اور ابنائے دنیا کے غصب و نہب نے خلافت رسولؐ کو اپنے قبضہ میں کر لیا اور امیر المومنینؑ نے سمجھ لیا کہ اس وقت علانیہ مخالفت میں قیام کرنا اسلام کیلئے نقصاندہ ہوگاتو انہوں نے وصیت پیغمبرؐ پر عمل کرتے ہوئے حیات دین اسلام کی خاطر گوشہ نشینی اختیار کی، امیر المومنینؑ کی خاموشی زمانہ کو غاصب حکومت کے کارندوں نے غنیمت خیال کرتے ہوئے قوانین الٰہی میں تحریف و تبدیلی اور سنت و سیرت نبویؐ کو بدلنے کے ہر موقع کو آسانی سے استعمال کیا اور تین حکومتوں کے دور میں جتنی تحریف کرسکتے تھے اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، زمانۂ مرسل اعظمؐ کے حالات و کیفیات کو یکسر بدل کر رکھ دیا، اقربا پروری، ستمگری، قرآن سوزی، مومنین کی خونریزی، اصحاب نبیؐ کی جلا وطنی، مدینۂ رسولؐ کی بے حرمتی، احکام اسلامی میں من چاہی تبدیلی، دینی حدود اور شرعی فرمودات میں لاپروائی ان کا طریقۂ کار بن گیا تھا۔
امیر المومنینؑ کی ظاہری حکومت کا دور اگرچہ بہت مختصر تھا لیکن انہوں نے کتاب اللہ اور سیرت رسولؐ کو نشاۃ ثانیہ دینا اپنا فریضہ قرار دیا اور بگڑے ہوئے ماحول، فساد زدہ حالات کو صدر اسلام اور زمانۂ رسالتمآبؐ کے عادلانہ نظام کی طرف لوٹانے کی ممکن سعی کی جو فسادی ذہنوں اور جاہلانہ نظام کی بازگشت کا خواب دیکھنے والوں پر بیحد بار ہورہا تھا تو کچھ لوگوں نے کھلم کھلا مخالفت پر کمر کس لی اور جنگ کا ماحول تک گرم کیا اگرچہ اس میں انہیں منہ کی کھانی پڑی کئی طرح کے پینترے بدلے مگر کسی میں کامیابی نہ مل سکی اور کچھ افراد وہ بھی تھے جو منافقت کا لباس پہنے رہے اور ساتھ میں رہتے ہوئے بھی ان سے غیریت کی بو آتی رہی ، ظاہر میں صحابی اور باطن میں بوالی و وبالی بنے رہے۔ ایسے لوگوں کو امیر المومنینؑ اگر جنگ میں جانے کا حکم دیتے تو کبھی گرمی کا بہانہ بناتے اور کبھی ٹھنڈک کا حیلہ سامنے لاتے انہیں امامؑ نے "أشباہ الرجال و لارجال" کے لفظوں سے یاد کرتے ہوئے ان کی حقیقت سے متنبہ بھی کیا ہے، امامؑ داخلی اور خارجی سخت معرکہ آرائیوں کا مقابلہ کرتے رہے لیکن نظام عدل کے نفاذ میں بنیان مرصوص کی مانند جمے رہے، مخالفین کی عداوت کی چنگاریاں بھڑکتی رہیں شعلہ فشانی میں تیزی آتی رہی سازشی ٹولہ اپنی شاطرانہ چالوں میں مصروف رہا اور جب جنگ و جدال کے باوجود امامؑ کو ان کے قرآنی موقف سے نہ ہٹا سکا تو ایسے موقع پر عناد و بغض سے بھرے ہوئےلوگ جب بات اور طریقۂ کار کے استحکام میں کوئی تزلزل نہیں پیدا کر پاتے تو ذات پر حملہ کی ٹھان لیتے ہیںچنانچہ امامؑ کی حیات کو ختم کرنے کی چالوں میں مصروف ہوگئےاور آخر کار صبح کی نماز میں مقام محراب میں سجدہ کے عالم میں مسجد کوفہ میں عبد الرحمٰن بن ملجم کی زہر آلود تلوار سے سر اقدس پر ایسا ضربِ کاری لگایا کہ امامؑ اس سے جانبر نہ ہوسکے 19 رمضان المبارک سنہ 40 ہجری کو زخمی کیا گیا اور 21 ماہ رمضان سنہ 40 ہجری کو آپ کی شہادت ہوئی، تمام حالات کا نگاہ غائر سے مطالعہ کرنے والا لکھنے پر مجبور ہو گیاکہ حضرت علیؑ کی عادلانہ کارفرمائیوں کو بد دماغ اور بد مزاج پر اتنی بار ہوگئی کہ موقع پا کر انہیں قتل کر دیا گیا: "قتل أمیر المؤمنین فی محرابه بعدالته" عیسائی مورخ جارج جرداق بھی اس کو سامنے رکھ کر "الصَّوتُ الْعَدَالَةِ الْإِنْسَانِیَّةِ" نامی پوری کتاب تحریر کر دی جس کا ترجمہ ندائے "عدالت انسانی" کے نام سے اردو میں بھی طبع ہو چکا ہے۔
بقیہ آئندہ (ان شاء الله المستعان)

ایک تبصرہ شائع کریں