★ جانداروں کے سلسلہ میں قرآنی آیات
اس سلسلہ میں قرآن کی آیات بہت سی ہیں مگر ہم صرف تین ہی آیات کا تذکرہ کر رہے ہیں.
چونکہ پیغمبر اسلام (ص) عالمین کیلئے رحمت قرار دئے گئے ہیں یہاں تک کہ حیوانی سماج و معاشرہ کیلئے بھی مبعوث برسالت ہوئے ہیں پس ہر جاندار کو مرسل اعظم (ص) کی امت قرار دیتے ہوئے قرآن کی آیات میں یوں ذکر ہوتا ہے:
۱- وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِى الْاَرْضِ وَلَا طَـآئِـرٍ يَّطِيْـرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ ۚ مَّا فَرَّطْنَا فِى الْكِتَابِ مِنْ شَىْءٍ ۚ ثُـمَّ اِلٰى رَبِّـهِـمْ يُحْشَرُوْنَ. (6: 38)
اور ایسا کوئی زمین پر چلنے والا نہیں اور نہ کوئی دو بازوؤں سے اڑنے والا پرندہ ہے مگر یہ کہ تمہاری ہی طرح کی جماعتیں ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے لکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، پھر سب اپنے رب کے سامنے جمع کیے جائیں گے۔ (انعام 38)
۲- وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَاۖ اَللَّـهُ يَرْزُقُهَا وَاِيَّاكُمْ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِـيْمُ (29: 60)
اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، اللہ ہی انہیں اور تمہیں رزق دیتا ہے اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (عنكبوت 60)
۳- وَ لَاُضِلَّنَّـهُـمْ وَ لَاُمَنِّـيَنَّـهُـمْ وَ لَاٰمُرَنَّـهُـمْ فَلَـيُـبَـتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّـهُـمْ فَلَيُغَيِّـرُنَّ خَلْقَ اللّـٰهِ ۚ وَ مَنْ يَّتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اللّـٰهِ فَقَدْ خَسِـرَ خُسْـرَانًا مُّبِيْنًا. (4: 119)
اور البتہ انہیں ضرور گمراہ کروں گا اور البتہ ضرور انہیں امیدیں دلاؤں گا اور البتہ ضرور انہیں حکم کروں گا کہ جانوروں کے کان چیریں اور البتہ ضرور انہیں حکم دوں گا کہ اللہ کی بنائی ہوئی صورتیں بدلیں اور جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنائے گا وہ صریح نقصان میں جا پڑا۔ (نساء 119)
مذکورہ بالا تین آیات سے ہمیں تین اہمترین نکات کی طرف اشارہ ملتا ہے:
اول: یہ ہے کہ تمام ہی موجودات اپنے سماجی نظام کے ماتحت اور پابند ہیں. جیسے انسانوں کا معاشرہ، البتہ اس فرق کے ساتھ کہ انسان اور حیوان کی ذات میں ہے نیز ان کے معاشرہ کی بناوٹ بھی ایک دوسرے سے متفاوت ہے لیکن اس کے با وجود یہی فرق پایا جاتا ہے کہ حیوانوں کا معاشرہ حیوانی سماج ہے.
دوم: یہ ہے کہ انسان و حیوان دونوں کا ہی رزق و روزی پروردگار عالم کے ذمہ ہوتا ہے.
سوم: یہ ہے کہ مُثلہ کرنے کو شیطانی عمل شمار کیا ہے اور اسے بڑے نقصان سے تعبیر کیا گيا ہے.
مذكوره بال آيات كي مزيد تفصيل كيلئے علامہ طباطبائی (ر) کی عظم الشان تفسیر المیزان کا مطالعہ کیجئے.

ایک تبصرہ شائع کریں