اسلام ميں حيوانات كے حقوق - 3

حیوانات کیلئے شریعت کے مختصر احکام


Image by Hamza Sefa Yılmaz from Pixabay

دین اسلام میں ہر جاندار کی جان اس وقت تک محترم شمار کیا جاتا ہے جن تک کہ وہ انسانوں کیلئے ضرر و نقصان کا سبب نہ قرار پائے اور یہ احترام حقوقی کے وضع کرنے کی مثال ان حیوانات کے سلسلہ میں قرار دئے گئے ہیں.
«نهي رسول الله (ص) عن قتل كل ذي روح إلا أن يؤذي»
ترجمه: رسول رحمت (ص) نے ہر جاندار کو (بلا وجہ) قتل کرنے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ وہ مؤذی جانور ہو تو اسے مارنا ممنوع نہیں ہے.
(كنز العمال 39981؛ ميزان الحكمة 3/ 1348/ 4539)
ان میں سے ہم بعض کو مختصر طور پر ذیل میں ذکر کر رہے ہیں.

۰۱- ہر جاندار جو کسی کے اختیار یا قبضہ میں ہے تو اسے چاہئے کہ اس جاندار کی زندگی کے وسائل فراہم کرے، اس کی معیشت میں جو ضروری امور ہیں نیز زندگی بسر کرنے کے دیگر ذرائع کو مہیا کرنا ضروری ہے.
۰۲- وسائل زندگی سے مراد عام طور پر مسکن و مکان، خوراک، پوشاک، کھانا، پینا، اور دوا وغیرہ ہے.
۰۳- اگر حیوان کھلی چراہ گاہ اور ایسے جگہوں میں جہاں پر وہ اپنے کھانے پینے اور زندگی بسر کرنے کے امور انجام دے سکتا ہے تو حیوان کے مالک کو چاہے تو اسے چرنے اور دیگر زندگی کے امور انجام دینے کیلئے آزاد کر سکتا ہے اور اگر حیوان یہ سب نہیں کر سکتا ہے تو اس کے مالک پر واجب ہے کہ حیوان کی معیشت کو فراہم کرے. اسی طرح اگر حیوان کو کافی حد تک کھانا پینا نہیں مل سکتا ہے تو مالک پر واجب ہے کہ بقیہ کھانا پینا جو کفایت کی حد تک ہو فراہم کرے گا.
۰۴- اگر حیوان کا مالک مندرجہ بالا وظائف کو انجام دینے سے بچتا ہے تو حاکم (شرع) پہلے اسے حکم دے گا اور مالک کو حیوان کی زندگی بسر کرنے کیلئے امور کو انجام دینے پر مجبور کرے گا.
۰۵- اگر حیوان کا مالک حاکم (شرع) کی اطاعت سے انکار کرتا ہے تو حاکم (شرع) کو چاہئے کہ دوسرے راستوں کا انتخاب کرے تا کہ حیوان اپنی زندگی بسر کرنے میں ہلاکت سے نجات پا سکے.
۰۶- اگر حیوان کے مالک کے منع کرنے کی صورت میں حاکم (شرع) مالک کے تمام جائداد میں سے کچھ (مقدار) کو فروخت کر سکتا ہے اور حیوان کے وسائل زندگی کو فراہم کرے اور اگر حیوان کی ضرورت پوری کرنے کیلئے مذکورہ امکانات کو کرایہ پر دینا بھی پڑے تو حاکم (شرع) یہ طریقہ کو بھی انجام دے گا.
۰۷- اگر حیوان کي ضرورت کا کھانا پینا اس کے مالک کے پاس موجود نہیں ہے اور کسی دوسرے شخص کے پاس یہی ضروریات زندگی موجود ہے تو مالک پر واجب ہے کہ ان ضروریات کو خریدے.
۰۸- جانور کا مالک بچہ کو اس کی ماں سے جدا نہیں كر سکتا. (شہیدی 1374، 286)
۰۹- حیوان کا ایک دودھ پیتا ہوا بچہ ہے تو اس کی ماں کے تھن میں بچہ کی کفایت بھر دودھ کا رہنا ضروری ہے لہذا اگر ماں کا دودھ صرف بچہ کی ضرورت بھر ہی ہوتا ہے تو ماں کے تھن سے دودھ دوہنا حرام ہے.
۱۰- تھن سے پوری طرح دودھ دوہنا نہیں چاہئے کیونکہ ایسا کرنے سے حیوان کو تکلیف ہوتی ہے.
۱۱- اگر دودھ دوہنا حیوان کیلئے نقصاندہ ہے جیسے حیوان کو پیٹ بھر کے کھانا نہیں ملتا ہے تو دودھ نکالنا حرام ہے.
۱۲- مناسب ہے کہ جو دودھ دوہنے والے کے ناخن کٹے ہوئے ہوں تا کہ حیوان کو تکلیف نہ پہونچے.
۱۳- شہد کے چھتّہ میں تھوڑا بہت شہد بچس کر رکھے تا کہ شہد کی مکھیاں بھوکی نہ رہیں.
۱۴- حیوان کو کسی بھی طرح کی تکلیف پہونچانا ممنوع ہے جیسے حد سے زیادہ اس کی پیٹھ پر بوجھ لادنا اور جانور کو مجبور کرنا تا کہ جلدی اور تیز چلے تو یہ عمل حیوان کو تکلیف دینا کہلاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ ماربا بھی منع ہے.
۱۵- حیوان کو گالی دینا اور لعنت ملامت کرنا نیز چہرے پر مارنا ممنوع ہے.
جیسا کہ امیر المومنین (ع) نے فرمایا ہے کہ جو شخص بھی  حیوان پر لعنت کرتا ہے تو خدا بھی اسی پر لعنت کرتا ہے.

Post a Comment

To be published, comments must be reviewed by the administrator *

جدید تر اس سے پرانی