Image by Rudy and Peter Skitterians from Pixabay
۱۶- حیوانات کا تفریح کی غرض سے شکار کیلئے نیز بلا ضرورت قتل کرنا حرام ہے اور اسی طرح تفریحی شکار کی خاطر سفر پر جانا بھی معصیت شمار ہوتا ہے نیز وہ اپنی نماز پوری پڑھے گا. (قصر نماز نہیں کر سکتا.)
«ما من دابة طائر و لا غيره يقتل بغير الحق الاستخاصمة يوم القيامة»
ترجمہ: ہر پرندہ یا غیر پرندہ کو کوئی شخص نا حق قتل کرے گا تو قیامت کے روز مقتول خداوند عالم کی بارگاہ میں قاتل کی شکایت کرے گا. (ميزان الحكمة 3/ 1346/ 4536)
۱۷- حیوانات کو آپس میں لڑانا بھی مکروہ ہے اور ضرر کی صورت میں حرام کہا جا سکتا ہے.
۱۸- پرندوں کے گھونسلوں بچے کا شکار کرنا حرام ہے جب تک کہ وہ پرواز کرنے کے قابل نہ ہو جائیں کیونکہ پرندہ کا بچہ اپنے گھونسلہ کے اندر اللہ کی حفظ و امان میں ہوتا ہے.
«عن أبي عبد الله (ع) قال، قال رسول الله (ص) لا تاتوا الفراخ في أعشائها و لا الطير في منامها حتي يصبح، قال له رجل: ما منامها يا رسول الله؟ قال (ص) الليل، منامه فلا تطرقه في منامها حتي يصبح و لا تأتوا الفراخ في عشه حتي يريش ويطير فإذا طار فاوتر له قوسك وانصب له فخك» ايضا انه قال «نهى رسول الله (ص) عن بيات (إتيان) الطير بالليل و قال إن الليل أمان لها»
اس حدیث کا کچھ حصہ ۱۸ نمبر میں ترجمہ کر چکے ہیں. (فروع كافي 6/ 216/ 2 و 3؛ وسائل الشيعه 16/ 239 و 240/ ب 28، ح 1 و 2)
۱۹- حیوانات کو تفریح یا غیر تفریح کیلئے ایک دوسرے سے لڑانا یہاں تک کہ ایک دوسرے کی جان بھی لیں یا خونی لڑائی کرانے كا عمل بھی ممنوع ہے. (تفسير كشاف سوره انعام كي آيت نمبر 3 كے ذيل ميں ملاحظہ کیجئے.)
۲۰- حیوانات کے چہرے پر طمانچہ مارنا ممنوع ہے.

ایک تبصرہ شائع کریں