Image by Lubos Houska from Pixabay
۲۱- حیوانات کو داغ دے کر نشان لگانا بھی ممنوع ہے.
۲۲- مالک کی گردن پر حیوان کے چھ حقوق ہیں؛
۱- جب اپنی سواری سے اترے تو سب سے پہلے اسے چارا کھانے کو دے.
۲- جب کسی پانی کے چشمہ و تالاب سے گذر ہو تو اسے پانی پلائے.
۳- بلا وجہ اسے نہ مارے.
۴- اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ لادے.
۵- اس کی قوت سے زیادہ راستہ طے نہ کرے.
۶- اس کی پشت پر زیادہ مدت کیلئے بیٹھا نہ رہے.
(منتخب میزان الحکمه ۱۷۰)
(منتخب میزان الحکمه ۱۷۰)
«علی بن أبی طالب (ع) قال: قال رسول الله (ص) للدابة علي صاحبها خصال ست: يبدء بعلفها إذا نزل، و يعرض عليها الماء إدا مر به، و لا يضرب وجهها، فإنها تسبح بحمد ربها، و لا يقف علي ظهرها إلا في سبيل الله عز و جل و لا يحملها فوق طاقة و لا يكلفها من المشئ إلا ما تطيق»
حدیث مذکورہ کو ۲۲ نمبر میں ترجمہ کر چکے ہیں.
(من لا يحضره الفقيه 2/ 187؛ الخصال 1/ 160؛ بحار 64/ 201/ 1 و 2؛ 210/ 16؛ فصول المهمة 3/ 248/ ب 75، ح 3077 - 1؛ ميزان الحكمة 3/ 1344/ 4524)
(من لا يحضره الفقيه 2/ 187؛ الخصال 1/ 160؛ بحار 64/ 201/ 1 و 2؛ 210/ 16؛ فصول المهمة 3/ 248/ ب 75، ح 3077 - 1؛ ميزان الحكمة 3/ 1344/ 4524)
۲۳- اسلام کے حکم کے مطابق کتے کو قتل کرنا بھی دیت کا سبب قرار پاتا ہے: جیسے شکاری اور محافظ کتے کی دیت بالترتیب چالیس درہم اور بیس درہم شریعت نے معین کیا ہے.
(المقنع شیخ صدوق ص 534)
(المقنع شیخ صدوق ص 534)
۲۴- لہذا حیوانات کے محکمہ کے ذمہ داران كيلئے بھی مندرجہ ذیل کے وظائف کا خیال رکھیں؛
۱- حیوان کے بچے اور اس کی ماں کے درمیان جدائی نہ ڈالیں.
۲- اس قدر حیوان کی پیٹھ پر بیٹھے نہ رہیں کہ ایسا کرنا حیوان کیلئے تکلیف کا باعث ہے لہذا اسے تمام حیوانات پر سوار ہونے کیلئے عدالت سے کام لینا چاہئے. یہ اصول و قانون بوجھ لادنے کو شامل نہیں ہے.
۳- اس قدر حیوان کی پیٹھ پر اتنا بھاری بوجھ نہ ڈالے کہ حیوان بھی زحمت میں پڑ جائے اور بوجھ کو دوسرے حیوانات ڈال کر بوجھ کو برابر کر دے.
۴- اگر کوئی حیوان تھکا ہوا ہے تو اسے آرام کرنے کیلئے چھوڑ دے.
۵- کام کے گھنٹوں میں ہر چند گھنٹے میں حیوان کو مناسب وقت کیلئے چھوڑ دینا چاہئے.
(مذکورہ مطالب حقوق حیوانات کے بارے میں "کتاب رسائل فقہی" علامہ محمد تقی جعفری از 113 تا 121 صفحات سے نقل کیا گیا ہے.)
۱- حیوان کے بچے اور اس کی ماں کے درمیان جدائی نہ ڈالیں.
۲- اس قدر حیوان کی پیٹھ پر بیٹھے نہ رہیں کہ ایسا کرنا حیوان کیلئے تکلیف کا باعث ہے لہذا اسے تمام حیوانات پر سوار ہونے کیلئے عدالت سے کام لینا چاہئے. یہ اصول و قانون بوجھ لادنے کو شامل نہیں ہے.
۳- اس قدر حیوان کی پیٹھ پر اتنا بھاری بوجھ نہ ڈالے کہ حیوان بھی زحمت میں پڑ جائے اور بوجھ کو دوسرے حیوانات ڈال کر بوجھ کو برابر کر دے.
۴- اگر کوئی حیوان تھکا ہوا ہے تو اسے آرام کرنے کیلئے چھوڑ دے.
۵- کام کے گھنٹوں میں ہر چند گھنٹے میں حیوان کو مناسب وقت کیلئے چھوڑ دینا چاہئے.
(مذکورہ مطالب حقوق حیوانات کے بارے میں "کتاب رسائل فقہی" علامہ محمد تقی جعفری از 113 تا 121 صفحات سے نقل کیا گیا ہے.)

ایک تبصرہ شائع کریں