اسلام ميں حيوانات كے حقوق - 6


Image by Gundula Vogel from Pixabay 

۱- حیوانات کے ذریعہ خدا کی عبادت

اسلام کے نظریہ کے مطابق حیوانات بھی خدا کی عبادت کرتے ہیں.
★ پیامبر اسلام (ص) نے فرمایا ہے:
«قال رسول الله (ص): لا تضربوا وجوه الدواب و كل شئ فيه الروح، فإنه يسبح بحمد الله.»
ترجمہ: حیوانات کے چہرہ پر مت مارو اور ہر شئے میں اس کی روح ہوتی ہے کیونکہ وہ خدا کی تسبیح و حمد کرتے ہیں.
(المحاسن البرقي 2/ 633/ 116؛ بحار الأنوار 61/ 204/ 6)

پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
«أن النبي (ص) مر على قوم وهم وقوف على دواب لهم و رواحل فقال لهم: "اركبوا هذه الدواب سالمة ودعوها (تدعوها) سالمة ولا تتخذوها كراسي لأحاديثكم في الطرق والأسواق فرب مركوبة خير من راكبها وأكثر ذكرا لله تعالى منه.»
ترجمہ: صحیح و سلامت چوپایوں پر سوار ہوں اور انہیں صحت و سلامت رکھیں اور انہیں اپنی تقریر و بات چیت کیلئے بازاروں اور کوچوں میں کرسی قرار نہ دو کیونکہ بہت سی سواری اپنے سوار سے بہتر ہوتی ہے اور سوار سے زیادہ یہ حیوانات اللہ تبارک و تعالی کو یاد کرتے ہیں.
(کنز العمال 24957؛ منتخب ميزان الحكمة 170؛ در المنثور للسيوطي 5/ 111؛ مجمع الزوائد 8/ 107، 33 - 144 باب النهي عن اتخاذ الدواب كراسي، 13225)

۲- خداوند عالم سے حیوانات کا مطالبہ

★ پيغمبر رحمت (ص) سے مروي ہے: «عربی متن حدیث»
ترجمہ: کوئی بھی حیوان ایسا نہیں ہے کہ وہ ہر صبح کو خداوند عالم سے یہ چاہتا ہے کہ پروردگار عالم اسے ایسا مالک عطا کرے جو ان کا پیٹ بھر کے کھانا اور پانی دے نیز ان کہ طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دے.
(فریدونی، 150، نقل حديث بزبان ابوذر)

۳- حيوانات کے ساتھ حسنِ سلوک پر اجر و ثواب

★ رسول الثقلین (ص) نے فرمایا ہے:
«عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (ص) قَالَ: "‏غُفِرَ لاِمْرَأَةٍ مُومِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَى رَأْسِ رَكِيٍّ يَلْهَثُ، قَالَ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ، فَنَزَعَتْ خُفَّهَا، فَأَوْثَقَتْهُ بِخِمَارِهَا، فَنَزَعَتْ لَهُ مِنَ الْمَاءِ، فَغُفِرَ لَهَا بِذَلِكَ‏"‏‏.‏» 
ترجمہ: ایک بری عورت تھی جس نے ایک کتے کو دیکھا جو کوئیں پر پیاسا بیٹھا ہوا تھا اور پیاس کی شدت سے اس کی حالت بہت خراب تھی تو اس عورت نے اپنی جوتی اتاری اور اوڑھنی سے باندھ کر اس کتے کیلئے کوئیں سے پانی نکالا پھر خداوند متعال نے اس کے گناہوں کو بخش دیا اسی ایک نیک عمل کی وجہ سے اس کی مغفرت ہوگئی.
(کنز العمال 43116؛ منتخب ميزان الحكمة 170؛ صحيح البخاري, حدیث نمبر 3321)

۴- حيوانات کی توہین و لعنت کی ممانعت

★ امير المومنين (ع) نے فرمايا: «عربی متن حدیث»
ترجمہ: جو شخص بھی حیوانات کی لعنت و ملامت کرتا ہے تو خدا بھی اس پر لعنت و ملامت کرتا ہے.

★ اسي طرح حيوانات كو گالي دينا نیز لعنت کرنا اور چہرے پر مارنا ممنوع ہے.
جیسا کہ امير المومنين (ع) نے فرمایا ہے:
«قال أمير المؤمنين (ع) لا تضربوا الدواب على وجوهها، فإنها تسبح بحمد ربها.»
ترجمہ: حیوانات کے چہروں پر مت مارو کیونکہ وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں. (اصول كافي 6/ 538/ 4؛ الخصال 618/ 10؛ منتخب ميزان الحكمة 170؛ جعفری 1377/ 118؛ وسائل الشيعة 11/ 482، ب 10/ 15316 - 2؛ بحار الأنوار 61/ 204؛ المحاسن 2/ 633/ 117)

۵- خداوند عالم سے حيوانات کی شکایت

★ رسولخدا (ص) نے فرمایا ہے:
«أن النبي (ص) قال: من قتل عصفورا عبثا، جاء یوم القیامة يعج إلى الله يقول: يا رب إن هذا (عبدك) قتلني عبثا ولم ينتفع بي و لم يدعني قآكل من حشارة الأرض.»
ترجمہ: جس شخص نے بھی گوریا کو بغیر ضرورت کے مارا تو وہ چڑیا قیامت کے روز خداوند منان کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے کہے گی. اے میرے پالنے والے مجھے فلاں نے بلا وجہ قتل کیا  اور مجھ سے فائدہ نہیں اٹھایا لہذا اب تو ہی میرے اور اس قاتل کے درمیان عدل و انصاف کر. یہی اس کی فریاد ہوگئی. (کنز العمال 39971؛ منتخب ميزان الحكمة 170؛ بحار الأنوار 61/ 306 و 270؛ 64/ 4؛ حياة الحيوان دميري 2/ 1348/ 4537)


Post a Comment

To be published, comments must be reviewed by the administrator *

جدید تر اس سے پرانی