Image by Alexas_Fotos from Pixabay
★ ايک حدیث میں ہے کہ مالک کی زیادتی کیلئے محشر کے دن اللہ کی بارگاہ میں انصاف کی خاطر خود حیوان فریادی ہوگا:
«أن النبي (ص) أبصر ناقة معقولة وعليها جهازها، فقال: أين صاحبها.؟ مروه فليستعد غدا للخصومة.»
«أن النبي (ص) أبصر ناقة معقولة وعليها جهازها، فقال: أين صاحبها.؟ مروه فليستعد غدا للخصومة.»
پیغمبر خدا (ص) نے ایک ناقہ یعنی مادہ اونٹ دیکھا جس کا زانو بندھا ہوا تھا اور سامان بھی اس کی پیٹھ پر ویسے ہی رکھا ہوا تھا، پیغمبر اسلام (ص) نے پوچھا: اس کا مالک کہاں ہے.؟ اسے اونٹ کے انصاف کیلئے خداوند متعال کی بارگاہ میں قیامت کے روز اپنے کو آمادہ و تیار کرنا چاہئے.
(بحار الانوار 7/ 276/ 50؛ منتخب ميزان الحكمة 170؛ وسائل الشيعة 11/ 540/ ب 49، 15483 - 1)
(بحار الانوار 7/ 276/ 50؛ منتخب ميزان الحكمة 170؛ وسائل الشيعة 11/ 540/ ب 49، 15483 - 1)
۶- حيوانات کے ساتھ بد سلوکی پر عذاب
★ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمان امیر المومنین (ع)، نقل شده ہے: «سمعت رسول الله (ص) يقول: إیاکم والمثلة ولو بالکلب العقور»
پیامبر (ص) نے فرمایا ہے: کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی حیوان کا مثلہ کرو چاہے پاگل کتا ہی کیوں نہ ہو.
(نهج البلاغه، باب رسائل 422)
(نهج البلاغه، باب رسائل 422)
جو شخص بھی حیوان کا مُثلہ کرے (اس سے مراد ہاتھ، پیر، آنکھ، ناک، کان و دُم کو جسم سے کاٹنا اور جدا کرنا) گا تو خداوند عالم ایسے شخص پر لعنت کرتا ہے.
«لَعنَ اللّه ُ مَن مَثَّلَ بالحَیوانِ»
جس نے بھی حیوان کا مثلہ کیا اس پر اللہ کی لعنت ہے.
(کنز العمّال 24971)
(کنز العمّال 24971)
★ رسولخدا (ص) سے معراج کا ایک منظر منقول ہے:
«جزاء تعذيب الحيوان - رسول الله (ص): عذبت امرأة في هر ربطته حتى مات ولم ترسله فيأكل من خشاش الأرض، فوجبت لها النار بذلك.»
(كنز العمال: 43695؛ ميزان الحكمة 1/ 713/ 984)
«جزاء تعذيب الحيوان - رسول الله (ص): عذبت امرأة في هر ربطته حتى مات ولم ترسله فيأكل من خشاش الأرض، فوجبت لها النار بذلك.»
(كنز العمال: 43695؛ ميزان الحكمة 1/ 713/ 984)
ترجمہ: جب میں شب معراج گیا اور آتش جہنم کی طرف سے میں نے عبور کیا تو میں نے ایک عورت کو عذاب کی حالت میں دیکھا، میں نے اس پر عذاب ہونے کی علت پوچھا، تب کہا گیا کہ اس نے ایک بلی کو قید و بند کر رکھا تھا اور اسے کھانا پینا نہیں دیتی تھی اور اسے زمین سے کیڑے مکوڑوں کو بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھی، یہاں تک کہ وہ بلی مر گئی، پس خداوند متعال اس نامناسب عمل کی وجہ سے اس پر عذاب نازل کر رہا ہے.
(مکارم الأخلاق 1/ 280/ 864؛ منتخب ميزان الحكمة 170)
(مکارم الأخلاق 1/ 280/ 864؛ منتخب ميزان الحكمة 170)
★ نیز یہ بھی فرمان پایا جاتا ہے:
«أبي عبد الله (ع) قال: إنّ إمـرأة عُـذِّبَتْ فی هِرّةٍ رَبَطتْها حتّى ماتَتْ عَطَشا»
«أبي عبد الله (ع) قال: إنّ إمـرأة عُـذِّبَتْ فی هِرّةٍ رَبَطتْها حتّى ماتَتْ عَطَشا»
ایک عورت نے بلی کو باندھ رکھا تھا یہاں تک کہ وہ پیاس کی شدت سے مر گئی اسی کے سبب وہ عذاب میں مبتلا ہو گئی ہے.
(جامع أحاديث الشيعة 16/ 922، * 40 - باب حكم قتل الهرة والبهيمة ومثلتها وايذائها * 3294 (1) الثواب 327؛ وسائل الشيعة (آل البیت) 29/ 14/ أبواب القصاص في النفس، ١ ـ باب تحريم القتل ظلما، 35033 - 13)
(جامع أحاديث الشيعة 16/ 922، * 40 - باب حكم قتل الهرة والبهيمة ومثلتها وايذائها * 3294 (1) الثواب 327؛ وسائل الشيعة (آل البیت) 29/ 14/ أبواب القصاص في النفس، ١ ـ باب تحريم القتل ظلما، 35033 - 13)

ایک تبصرہ شائع کریں