کیا ﺭﺳﻮلخدﺍ (ﺹ) بی بی ﻋﺎﺋﺸﻪ کے حجرہ میں مدفون ہیں؟
Image by Abdullah Shakoor from Pixabay
مترجم: اعظمی بریر ابو دانیال
پیغمبر اسلام (ص) کے محل دفن کے سلسلہ میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں.
ﺍهلسنت کا نظریه:
جو كچھ بھی اہلسنت کے درمیان مشہور یہی ہیکہ آنحضرت (ص) عائشہ کے حجرہ میں دفن ہوئے ہیں. اور اپنی بات کی دلیل کیلئے عائشہ سے منقول بخاری کہ ایک روایت بیان کرتے ہیں:
★ ﻗَﺎﻟَﺖْ ﻋَﺎﺋِﺸَﺔُ ﻟَﻤَّﺎ ﺛَﻘُﻞَ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲُّ (ص) ﻭَ إﺷْﺘَﺪَّ ﻭَﺟَﻌُﻪُ إﺳْﺘَﺄْﺫَﻥَ ﺃَﺯْﻭَﺍﺟَﻪُ ﺃَﻥْ ﻳُﻤَﺮَّﺽَ ﻓِﻲ ﺑَﻴْﺘِﻲ ﻓَﺄَﺫِﻥَّ ﻟَﻪُ، ﻓَﺨَﺮَﺝَ ﺑَﻴْﻦَ رَجُلَینِ تَخُطّ ﺭِﺟْﻼَﻩُ ﺍﻷَﺭْﺽَ، ﻭَ ﻛَﺎﻥَ ﺑَﻴْﻦَ ﺍﻟْﻌَﺒَّﺎﺱِ ﻭَ ﺭَﺟُﻞٍ ﺁﺧَﺮَ. ﻗَﺎﻝَ ﻋُﺒَﻴْﺪُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻓَﺬَﻛَﺮْﺕُ ﺫٰﻟِﻚَ لِإﺑْﻦِ ﻋَﺒَّﺎﺱٍ ﻣَﺎ ﻗَﺎﻟَﺖْ ﻋَﺎﺋِﺸَﺔُ ﻓَﻘَﺎﻝَ ﻟِﻲ ﻭَ ﻫَﻞْ ﺗَﺪْﺭِﻱ ﻣَﻦِ ﺍﻟﺮَّﺟُﻞُ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﻟَﻢْ ﺗُﺴَﻢِّ ﻋَﺎﺋِﺸَﺔُ ﻗُﻠْﺖُ ﻻَ. ﻗَﺎﻝَ ﻫُﻮَ ﻋَﻠِﻲُّ ﺑْﻦُ ﺃَﺑِﻲ ﻃَﺎﻟِﺐٍ. (ﺻﺤﻴﺢ ﺑﺨﺎﺭﻱ 1/ 162 ﺡ 665)
ﭼﻮنکہ پیغمبر (ص) نے طبیعت میں سنگینی کو محسوس کیا اور درد میں شدت پیدا ہوئی تو دوسری ازواج سے بھی اجازت لیا تا کہ آنحضرت (ص) بیماری کے ایام میں اپنے خاص حجرہ میں ہی تشریف فرما رہیں تب ازواج نے بھی اجازت دیدی. پس آنجناب (ص) اس حالت میں کہ حضرت عباس اور کوئی ایک دوسرا شخص کا سہار لے کر حجرہ سے نکلے نیز زمین پر قدم مبارک خط دے رہے تھے.
عبيد اللہ بن عباس نے کہتے ہیں: میں نے جس وقت عائشہ کے ان مطالب کو ابن عباس کیلئے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ وہ ایک شخص کون ہے جس کا نام عائشہ نے ذکر نہیں کیا ہے.؟ میں نے کہا: نہیں. تو انہوں نے کہا: وہ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺍبیطاﻟﺐ (ع) ہی ہیں. البتہ بخاری نے اپنی صحیح میں ان مطالب کو کئی مقامات پر تکرار بھی کیا ہے کہ سارے کے سارے ہی بی ب عائشہ سے ہی مروی ہیں اور اس دعوے کے ثبوت کیلئے تفصیلات کے ساتھ ذکر کیا ہے. لیکن انہی کلمات کے درمیان میں ہی تناقضات کا بھی مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ جو خود ہی قرینہ قرار پاتا ہے کہ یہ مطالب ضعیف شمات ہوتے ہیں کہ ابھی یہاں پر ان کی بحث کا مقام بھی نہیں ہے.
یہیں پر لازم ہے کہ مذکورہ بالا روایت کے متن سے عائشہ کے ناپسندیدہ معنی دار الفاظ کی جگہ ﺍﻣﻴﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﻴﻦ ﻋﻠﻲ ﺍﺑﻦ ﺍبیطاﻟﺐ "ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻓﻀﻞ ﺻﻠﻮﺍﺕ ﺍﻟﻤﺼﻠﻴﻦ" کا اسم گرامی لینا گوارا نہیں کیا اسی لئے "کوئی دوسرا شخص" کے الفاظ کا استعمال کیا ہے. جیسا کہ اھمد بن حنبل نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے:
★ ﻫُﻮَ ﻋَﻠِﻲٌّ ﻭَ ﻟَﻜِﻦَّ ﻋَﺎﺋِﺸَﺔَ ﻟَﺎ ﺗَﻄِﻴﺐُ ﻟَﻪُ ﻧَﻔْﺴًﺎ.
وہ ﺷﺨﺺ (کہ جن کا نام روایت میں ذکر کرنا گوارا نہیں کیا ہے) وہی ﻋﻠﻲ ﺍﺑﻦ ﺍبیطاﻟﺐ (ع) کی ذات گرامی ہے کہ عائشہ آنحضرت کے نام کا تذکرہ کرنا پسند نہیں کرتی تھیں. (ﻣﺴﻨﺪ ﺃﺣﻤﺪ ﺣﻨﺒﻞ، 6/ .228)
اسی طرح سے روایت کو ابن سعد نے بھی اپنی کتاب طبقات میں بھی نقل کیا ہے:
★ ﻫﻮ ﻋﻠﻲ، ﺇﻥ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﻻ ﺗﻄﻴﺐ ﻟﻪ ﻧﻔﺴﺎ ﺑﺨﻴﺮ.
وہ ﺷﺨﺺ (کہ جن کا نام روایت میں ذکر کرنا گوارا نہیں کیا ہے) وہی ﻋﻠﻲ ﺍﺑﻦ ﺍبیطاﻟﺐ (ع) کی ذات گرامی ہے کہ عائشہ آنحضرت کے نام کا تذکرہ کرنا پسند نہیں کرتی تھیں. (ﺍﻟﻄﺒﻘﺎﺕ ﺍﻟﻜﺒﺮﻱ، 2/ 232.)

ایک تبصرہ شائع کریں