کیا ﺭﺳﻮلخدﺍ (ﺹ) بی بی ﻋﺎﺋﺸﻪ کے حجرہ میں مدفون ہیں؟
Image by Abdullah Shakoor from Pixabay
مترجم: اعظمی بریر ابو دانیال
ﺷﻴﻌﻪ نظریه:
بعض شیعہ محققین کا ﻧﻈﺮیہ یہی ہے کہ حضرت رسولخدا (ص) بی بی عائشہ کے حجرہ میں دفن نہیں ہوئے ہیں.
جن کے سلسلہ میں ہم ۸ دلائل و قرائن کا تذکرہ ذیل میں کر رہے ہیں جن سے یہی بات پایہ ثبوت کو پہونچ جائے کہ آنحضرت بی بی عائشہ کے حجرہ میں ہرگز دفن نہیں ہوئے ہیں:
۱- جب یہ کہا جاتا ہے: "بیت ﺍﻟﻨﺒﻲ یا ﺩﺍﺭ ﺍﻟﻨﺒﻲ" (دونوں ہی کے معنی نبی کا گھر ہوتا ہے) یا "ﺣﺠﺮﺓ ﺍﻟﻨﺒﻲ" (نبی کا حجرہ) تو ان الفاظ کے استعمال سے آنحضرت (ص) کا فقط خاص اور مخصوص حجرہ اور گھر ہی مراد ہوتا ہے ورنہ بقیہ کے گھر یا حجرہ کو ازواج کے ناموں کے ساتھ ہی پکارا جا رہا ہے جیسے ام المومنین ام سلمہ کا حجرہ، سودہ کا حجرہ، صفیہ کا گھر عائشہ کا گھر اور فلان زوجہ کا گھر وغیرہ لہذا آج بھی یہی الفاظ استعمال ہو رہے ہیں.
★ ﺃَﻥَّ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲَّ (ص) ﻛَﺎﻥَ ﻳُﺼَﻠِّﻲ ﺫَﺍﺕَ ﻟَﻴْﻠَﺔٍ ﻓِﻲ ﺣُﺠْﺮَﺗِﻪِ ﻓَﺠَﺎﺀَ ﺃُﻧَﺎﺱٌ ﻓَﺼَﻠَّﻮْﺍ ﺑِﺼَﻠَﺎﺗِﻪِ ﻓَﺨَﻔَّﻒَ ﻓَﺪَﺧَﻞَ ﺍﻟْﺒَﻴْﺖَ.
ایک رات میں رسول اکرم (ص) اپنے مخصوص حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک جماعت آئی اور آنجناب کے پیچھے نماز کی اقتدا کرنے لگی اسی لئے نبی مکرم (ص) نے اپنی نماز جلدی سے پڑھا اور اپنے ہی حجرہ میں داخل ہو گئے. (ﻣﺴﻨﺪ ﺃﺣﻤﺪ،3/ 103، ﺡ 11567)
★ ﻋﻦ ﺭﺑﻴﻌﺔ ﺑﻦ ﻛﻌﺐ ﺍﻷﺳﻠﻤﻲ: ﻛﻨﺖ ﺃﺑﻴﺖ ﻋﻨﺪ ﺣﺠﺮﺓ ﺍﻟﻨﺒﻲ ﻓﻜﻨﺖ ﺃﺳﻤﻌﻪ ﺇﺫﺍ ﻗﺎﻡ ﻣﻦ ﺍﻟﻠﻴﻞ ﻳﻘﻮﻝ: ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﻴﻦ.
ﺭﺑﻴﻌﻪ بن کعب اسلمی سے مروی ہے: ایک روز پیغمبر خدا (ص) کے حجرہ کے پاس رات گزار رہے تھے پس میں نے تاریکی میں آنحضرت (ص) کے قیام اللیل کی آواز سنی کہ آپ فرماتے ہیں: "پاک و پاکیزہ اللہ جہانوں کا پالنے والا ہے" (ﺳﻨﻦ ﺍﻟﻨﺴﺎﺋﻲ، 3/ 209)
۲- رسول اسلام (ص) کے حجرہ سے بہت زیادہ قریب حضرت علی (ع) کا ہی گھر تھا کہ جس کا ایک دروازہ پیغمبر اکرم (ص) کے حجرہ کے بالکل برابر میں ہی قرار دیا تھا.
★ ﺟﺎﺀ ﺭﺟﻞ ﺇﻟﻲ إﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻓﺴﺄﻟﻪ ﻋﻦ ﻋﺜﻤﺎﻥ ... ﺛُﻢَّ ﺳَﺄَﻟَﻪُ ﻋَﻦْ ﻋَﻠِﻲٍّ، ﻓَﺬَﻛَﺮَ ﻣَﺤَﺎﺳِﻦَ ﻋَﻤَﻠِﻪِ ﻗَﺎﻝَ ﻫُﻮَ ﺫَﺍﻙَ، ﺑَﻴْﺘُﻪُ ﺃَﻭْﺳَﻂُ ﺑُﻴُﻮﺕِ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲِّ (ص). ﺛُﻢَّ ﻗَﺎﻝَ ﻟَﻌَﻞَّ ﺫَﺍﻙَ ﻳَﺴُﻮﺅُﻙَ.؟ ﻗَﺎﻝَ ﺃَﺟَﻞْ. ﻗَﺎﻝَ ﻓَﺄَﺭْﻏَﻢَ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﺑِﺄَﻧْﻔِﻚَ، إﻧْﻄَﻠِﻖْ ﻓَﺎﺟْﻬَﺪْ ﻋَﻠَﻲَّ ﺟَﻬْﺪَﻙَ.
ایک شخص ابن عمر کے پاس آیا اور عثمان کے بارے میں ہوچھنے لگا پھر حضرت علی (ع) کے سلسلہ میں سوال کیا اور آنحضرت (ع) کے فضائل و مناقب نیز اعمال خیر کی باتیں بیان کرتے ہوئے اضافہ کیا: رسول اکرم (ص) کا گھر ہی حضرت علی (ع) کے گھر کے سب سے قریب ہے پھر انہوں سے اس شخص سے سوال کیا: شائد یہ باتیں تمہیں کچھ پسند نہیں آتی ہوں گی.؟ تب اس شخص نے جواب میں کہا: جی ہاں! (مجھے یہ بات پسند نہیں آئی) بالآخر ابن عمر نے کہا: اللہ تیری ناک کو رگڑے یعنی تجھے ذلیل و خوار کرے. تیرے باطنی میلان کو مجھ ہر آشکار کر دیا. (ﺻﺤﻴﺢ ﺑﺨﺎﺭﻱ، 4/ 208، ﺡ 3704)
★ ﺭﻭﺍﻳﺔ ﺍﻟﻌﻼﺀ ﺑﻦ ﻋﻴﺰﺍﺭ ﻗﺎﻝ: ﺳﺎﻟﺖ إﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻋﻦ ﻋﻠﻲ. ﻓﻘﺎﻝ: أﻧﻈﺮ إﻟﻲ ﻣﻨﺰﻟﻪ ﻣﻦ ﻧﺒﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻟﻴﺲ ﻓﻲ ﺍﻟﻤﺴﺠﺪ ﻏﻴﺮ ﺑﻴﺘﻪ.
ﻋﻼﺀ ﺑﻦ ﻋﻴﺰﺍﺭ سے روايت ہے: انہوں کہا کہ میں نے ابن عمر سے (حضرت) علی (ع) کے سلسلہ میں سوال کیا. تو انہوں نے جواب میں یہی کہا: رسولخدا (ص) کے گھر اور آنحضرت کے مکان کے درمیان دیکھو کہ ان دو گھروں سے زیادہ کوئی اور مکان اتنا قریب نہیں ہے. (ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﻱ، 7/ 59)
★ ﺛﻢّ ﻗﺎﻝ ألا أﺣﺪّﺛﻚ ﻋﻦ ﻋﻠﻲ؟ ﻫﺬﺍ ﺑﻴﺖ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﻓﻲ ﺍﻟﻤﺴﺠﺪ ﻭ ﻫﺬﺍ ﺑﻴﺖ ﻋﻠﻲّ.
پھر انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں علی کے بارے میں کوئی بات بتاؤں.؟ یہی رسولخدا (ص) کا گھر ہے اور یہ علی (ع) کا گھر ہے. (ﻣﺴﺘﺪﺭﻙ ﺣﺎﻛﻢ، 3/ 51)

ایک تبصرہ شائع کریں