کیا ﺭﺳﻮلخدﺍ (ﺹ) بی بی ﻋﺎﺋﺸﻪ کے حجرہ میں مدفون ہیں؟
Image by Abdullah Shakoor from Pixabay
مترجم: اعظمی بریر ابو دانیال
پس اسی سے ہمیں یہ دلیل ملتی ہے کہ حضرت علی (ع) اور جناب فاطمہ زہرا (س) کا گھر پیغمبر اسلام (ص) کے گھر سے اب سے زیادہ قریب ہوتا ہے.
البتہ جناب فاطمہ زہرا (س) کیلئے بھی ایک مخصوص حجرہ پیغمبر اسلام (ص) کے خاص حجرہ میں موجود رہتا ہے. جس طرح سے مسجد النبی میں آج تک آنحضرت کے نام سے اب بھی ایک حجرہ کا نام باقی رکھا گیا ہے.
۳- اہلسنت کی کتابوں سے یہی ثابت ہو رہا ہے کہ رسول اکرم (ص) کی وفات آنجناب کے مخصوص حجرہ میں ہی واقع ہوئی ہے.
ابن خطاب کی روایت میں پیغمبر اسلام (ص) کی روح قبض ہونے کے مقام کے سلسلہ میں نقل ہوا ہے:
★ ﻓﺒﻴﻨﻤﺎ ﻧﺤﻦ ﻓﻲ ﻣﻨﺰﻝ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺇﺫﺍ ﺭﺟﻞ ﻳﻨﺎﺩﻱ ﻣﻦ ﻭﺭﺍﺀ ﺍﻟﺠﺪﺍﺭ ﺃﻥ ﺃﺧﺮﺝ ﺇﻟﻲّ ﻳﺎ إﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ … ﻓﺈﻥ ﺍﻷﻧﺼﺎﺭ إﺟﺘﻤﻌﻮﺍ ﻓﻲ ﺳﻘﻴﻔﺔ ﺑﻨﻲ ﺳﺎﻋﺪﺓ، ﻓﺄﺩﺭﻛﻮﻫﻢ ﻗﺒﻞ ﺃﻥ ﻳﺤﺪﺛﻮﺍ ﺃﻣﺮﺍ...
اس حالت میں کہ ہم رسولخدا (ص) کے گھر یں تھے جب ایک شخص نے دیوار کے پیچھے سے آواز دی: اے ابن خطاب! باہر نکل کر میرے پاس آؤ … کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار جمع ہو چکے ہیں اس سے پہلے کہ کوئی حادثہ رونما ہو ان سے ملحق ہو جائیں ... (ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﻱ، 7/ 23، ﺗﺎﺭﻳﺦ ﺩﻣﺸﻖ، 30/ 282، ﻭ ﻓﻲ ﺭﻭﺍﻳﺔ إﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ، 2/ 155)
۴- ذیل کی روایت اس بات پر دلیل ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی وفات بی بی عائشہ کے حجرہ میں نہیں ہوئی تھی:
★ «ﻟﻘﺪ ﻧﺰﻟﺖ ﺁﻳﺔ ﺍﻟﺮﺟﻢ ﻭ ﺭﺿﺎﻋﺔ ﺍﻟﻜﺒﻴﺮ ﻋﺸﺮﺍ ﻭ ﻟﻘﺪ ﻛﺎﻧﺖ ﻓﻲ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺗﺤﺖ ﺳﺮﻳﺮﻱ، ﻓﻠﻤﺎ ﻣﺎﺕ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﻭ ﺗﺸﺎﻏﻠﻨﺎ ﺑﻤﻮﺗﻪ ﺩﺧﻞ ﺩﺍﺟﻦ ﻓﺄﻛﻠﻬﺎ!»
عائشہ بی بی سے مروی ہے: ﺭﺟﻢ (سنگسار) کی آیت اﻭر ﺭﺿﺎعت کبیر میں دس مرتبہ دودھ پلانے والی آیت نازل ہوئیں اور میں نے یہ دو آیتیں ایک کاغذ پر لکھی ہوئی اپنے بستر کے نیچے محفوظ رکھا تھا لیکن جس روز رسولخدا (ص) کی وفات ہوئی تو ہم لوگ آنحضرت کی میت کے امور (غسل و کفن اور دفن) میں مشغول ہو گئے تو ایک بکری یا بھیڑ گھر میں داخل ہوئی اور (جس پر آیت لکھی ہوئی تھی) اسی کاغذ کو کھا گئی. (ﺳﻨﻦ إﺑﻦ ﻣﺎﺟﺔ، 1/ 625، ﺃﻭﺳﻂ ﺍﻟﻄﺒﺮﺍﻧﻲ، 8/ 12، ﻣﺴﻨﺪ ﺃﺑﻲ ﻳﻌﻠﻲ، 8/ 64، ﺍﻟﻤﺤﻠﻲ، 11/ 236)
★ ﻭ ﻗﺎﻝ: ﻫﺬﺍ ﺣﺪﻳﺚ ﺻﺤﻴﺢ.
محدثین نے کہا ہے: یہ حدیث صحیح ہے. (ﻟﺴﺎﻥ ﺍﻟﻌﺮﺏ، 7/ 33؛ ﻧﻬﺎﻳﺔ ﺍﺑﻦ ﺍﻷﺛﻴﺮ، 2/ .87)
مذکورہ بالا روایت سے ہمیں یہی پتہ چلتا ہے کہ اگر رسول اسلام (ص) کی بیماری اوع وفات بی بی عائشہ کے حجرہ میں رونما ہوا ہوتا تو یہ امکان ہی نہیں پایا جا سکتا تھا کہ اسی روز حجرہ لوگوں سے بھرا ہوا ہوتا تو بکری یا بھیڑ بی بی جی کے حجرہ میں داخل ہو کر دو آیتوں والا کاغذ کھا جاتی.؟
۵- مختلف روایات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اکرم (ص) کے حجرہ کا دو دروازہ ہوتا ہے جب مسلمان پیغمبر (ص) کے جسد مبارک پر نماز جنازہ پڑھتے تو گروہ گروہ ایک دروازہ سے داخل ہوتے اور دوسرے دروازہ سے خارج ہو جاتے تھے.
حالانکہ جیسا کہ بعد کی دلیل سے یہ معلوم ہوگا کہ عائشہ کے حجرہ کا فقط ایک ہی دروازہ ہوا کرتا تھا وہ بھی آنحضرت (ص) کے مستقل و خاص حجرہ کی غیر سمت میں قرار پاتا ہے.
★ ﻗَﺎﻟُﻮﺍ: ﻛَﻴْﻒَ ﻧُﺼَﻠِّﻲ ﻋَﻠَﻴْﻪِ؟ ﻗَﺎﻝَ: ﺍﺩْﺧُﻠُﻮﺍ ﺃَﺭْﺳَﺎﻟًﺎ ﺃَﺭْﺳَﺎﻟًﺎ، ﻗَﺎﻝَ: ﻓَﻜَﺎﻧُﻮﺍ ﻳَﺪْﺧُﻠُﻮﻥَ ﻣِﻦْ ﻫَﺬَﺍ ﺍﻟْﺒَﺎﺏِ ﻓَﻴُﺼَﻠُّﻮﻥَ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﺛُﻢَّ ﻳَﺨْﺮُﺟُﻮﻥَ ﻣِﻦْ ﺍﻟْﺒَﺎﺏِ ﺍﻟْﺂﺧَﺮ.
جب رسولخدا (ص) کی روح قبض ہوئی تو لوگوں نے کہا: ہم کیسے آنحضرت (ص) کی نعش مبارک پر نماز جنازہ پڑھیں گے.؟ تو جواب دیا: گروہ گروہ ایک دروازہ سے داخل ہوں گے اور نماز جنازہ پڑھیں گے پھر دوسرے دروازہ سے خارج ہو جائیں گے. (ﻣﺴﻨﺪ ﺃﺣﻤﺪ، 5/ 81، ﺡ 19838؛ ﺗﺎﺭﻳﺦ ﺩﻣﺸﻖ 4/ 296، ﺃﺳﺪ ﺍﻟﻐﺎﺑﺔ، 5/ .254)

ایک تبصرہ شائع کریں