۸- بعض سوروں کی تلاوت کیجئے.
روایات میں بہت سے سوروں کی تلاوت کرنے کے سلسلہ میں ذکر ملتا ہے کہ جن سے فقر و غربت دور ہوتی ہے، سختی سے نجات ملتی ہے اور رزق میں اضافہ و بركت ہے نیز ان ہی سوروں کی طرف معصومین (ع) نے ہدایت فرمایا ہے.
★ روایت میں مذکور ہے: «جو شخص سورہ واقعہ کو ہر شب (نماز مغرب کے بعد) تلاوت کرے گا تو وہ دنیا کی سختی، محتاجی اور دنیا کی آفتوں میں سے کوئی بھی آفت نہیں دیکھے گا.» [وسائل الشیعه، 6/ 112]
★ اسی طرح رسول اكرم (ص) فرماتے ہیں: «جو شخص بھی سورہ لیل کی تلاوت کرے گا خداوند متعال اس قدر اسے روزی عطا کرے گا یہاں تک کہ وہ شخص راضی ہو جائے اور اسے سختیوں میں نہیں ڈالے گا اور اس کیلئے آسان کرے گا.» [مصباح الكفعمی، ص 444]
★ امام صادق (ع) فرماتے ہیں: «جو شخص سورہ ذاریات کو دن یا رات میں پڑھے گا تو خداوند عالم اس کی زندگی کے حالات کی اصلاح کرتا ہے اور اس کیلئے روزی میں اضافہ کرتا ہے.» [اعلام الدین، دیلمی، ص 377]
۹- غیر خدا سے نا امیدي ركھئے
★ پیغمبر اسلام (ص) این سلسلہ میں فرماتے ہیں: «جو شخص بھی غیر خدا سے قطع تعلق کرے گا تو خداوند متعال اس کی زندگی کی روزی بھی مہیا کرتا ہے اور وہاں ہی سے روزی عطا کرے گا جہاں سے وہ تصور بھی نہیں کر سے گا لیکن جو شخص بھی دنیا سے امید لگائے ہوئے ہے تو خداوند منان اسے دنیا کے حوالے کر دے گا.» [نهج الفصاحه، حدیث ۳۰۰۴]
۱۰- قناعت و میانه روی کو اپنائے
★ امیر المومنین نے فرمایا ہے: «قناعت وہ دولت ہے جس کی انتہا نہیں ہے کہ جو اپنے پیچھے عزت بھی لاتی ہے.» [وسائل الشیعه، 15/ 278]
بعض اوقات کبھی کبھی ہمیں کچھ مالی مشکل بھی نہیں ہوتی لیکن ہم اپنی زندگی سے لطف اندوز نہیں ہوتے اور مستقل اس خیال میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں کہ ہم جس منزل پر ہیں اس سے بھی بلند مقام تک پہونچ سکتے ہیں اور مزید مالدار ہو جائیں. اگر انسان چاہے تو جس قدر اس کے پاس دولت ہے اسی سے صحیح طریقہ سے فائدہ اٹھائے. پھر اس کیلئے لازمی نہیں ہے کہ اپنے آپ کو زحمت ڈالتے ہوئے تکلیفوں سے دچار ہو.
اگر ہر فرد اسی طریقہ سے افراط و اسراف میں مبتلا نہیں ہے اور اپنے امور میں میانہ روی کو عنوان زندگی قرار دیا ہے تو بیشک اپنی معیشت میں ہرگز مشکلات ست ہمکنار نہیں ہوگا اور خداوند متعال بھی اس کی مدد فرماتا رہے گا. (ان شاء الله المستعان)
تمت بالخیر به نستعین و هو خیر المعین


ایک تبصرہ شائع کریں