ﻣﻮﻣﻦ کی توہین کرنے سے بچئے - ۱

ﻣﻮﻣﻦ کی توہین کرنے سے بچئے!


محرر: ﻣﺤﻤﺪ ﻃﺎﻫﺮﯼ
مترجم: اعظمی بُرَیر ابو دانیال

مہدوی زندگی کا طور و طریقہ کے اہمترین مسائل میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل مسئلہ مومن کی حرمت و عزت کی حفاظت کرنا ہے اور اسی مسئلہ کے مقابلہ میں مومن کی بے حرمتی و  بے عزتی کرنا اور اسے مقام و مرتبہ سے گرانا ہے.

ﻣﻮﻣﻦ کی بے عزتی کرنے سے بچیئے.

مومن کی بے ﺣﺮﻣﺘﯽ نہ کرنا اتنی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ اسے بعض احادیث میں خدائے ذو الجلال مقدس کی بے عزتی کرنے کے معنی و مفہوم کے طور پر بیان کیا گیا ہے….چنانچہ اس سلسلہ میں امام باقر (ع) نے ایک روایت میں بیان فرمایا:
«جس وقت ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ‏(ص‏) کو معراج پر لے جایا گیا تو عرض کیا: پروردگارا! تیری بارگاہ میں مومن کا رتبہ و مقام کیسا ہے؟ تو خداوند عالم نے فرمایا: اے محمد! جو کوئی بھی میرے اولیا میں سے کسی ایک ولی کی بھی توہین کرے گا، گویا وہ مجھ سے کھلم کھلا جنگ کرنے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا ہے اور میں اپنے اولیا کی مدد کرنے میں سب سے زیادہ جلد بازی کرنے والا ہوں.
[ﮐﻠﯿﻨﯽ، ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﯾﻌﻘﻮﺏ، ﮐﺎﻓﯽ، 2/ 352، ﺡ: 8، ﺩﺍﺭ ﺍﻟﮑﺘﺐ ﺍﻹﺳﻼﻣﯿﺔ، ﺗﻬﺮﺍﻥ، 1365 ﺵ.]

ﺣﺪیث کی وضاحت

اسی حدیث کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم مومن کی بے حرمتی نہ کرنے کی قیمت کو سمجھ سکتے ہیں کیوں خداوند متعال مومن کی بے عزتی کو اپنی بے عزتی شمار کرتا ہے اور بے حرمتی کے علاوہ خدا سے جنگ کرنے کے بھی مساوی ہے. اور اسی طرح خداوند عالم بھی اس بے حرمتی کے مقابلہ میں انتقام بھی لیتا ہے اور مظلوم مومن کی فریاد رسی کو جلدی پہونچتا ہے.

ﻣﻈﻠﻮﻡ کی دعا

مظلوم کی امداد کو پہونچنا اور مظلوم کی دعا کا مستجاب ہونا یہ عمل اس قدر جلدی ہوتا ہے کہ امام صادق (ع) سے روایت میں فرمایا ہے: «ظلم ڈھانے سے بچو، بتحقیق کہ مظلوم کی ﺩﻋﺎ ﺁﺳﻤﺎﻥ کی طرف بلند ہوتی ہے اور مقام استجابت تک پہونچتی ہے.»
[ﮐﻨﺰ ﺍﻟﻌﻤﺎﻝ، 3/ 500، ﺥ 7601.28؛ ﻏﺮﺭ ﺍﻟﺤﮑﻢ ‏(ﻣﺘﺮﺟﻢ) 2/ 618، ﺡ 17329]

ﻣﻮﻣﻦ کی بے حرمتی کے مصادیق

مومن کی بے ﺣﺮﻣﺘﯽ کے مختلف ﻣﺼﺎﺩﯾﻖ ہو سکتے ہیں جن میں سے ہم بعض کا تذکرہ کر رہے ہیں:

۱- ﻣﻮﻣﻦ سے بے پرواہ رہنا

چند امور میں سے جو مومن کی بے عزتی کے مصداق ہے ان میں سے ایک اس سے بے اعتنائی رکھنا ہے اس بے پرواہی بھی اس سے قبل بیان کردہ کے جیسے ہی شدید ہے کہ خود خداوند عالم  نے اس بے فکری کو اپنی بے فکری تصور کرتا ہے.
جیسا کہ امام صادق (ع) اپنے پدر بزرگوار کی زبان سے رسول اکرم (ص) کی ایک حدیث کو نقل کرتے ہیں کہ رسولخدا (ص) نے فرمایا ہے: «ہر وہ شخص جو ایک فقیر مسلمان کی رعایت و توجہ نہیں کرتا تو اس نے اللہ کے حقوق کی رعایت و توجہ نہیں کیا اور خداوند متعال بھی قیامت کے روز اس سے رعایت و توجہ نہیں رکھے گا مگر یہ کہ وہ توبہ کر لے
[ﻭﺳﺎﺋﻞ ﺍﻟﺸﯿﻌﻪ، ﺣﺮ ﻋﺎﻣﻠﯽ، ﺗﺮﺟﻤﻪ: ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﻓﺎﺭﺍﺑﯽ، ﺑﺎﺏ ۱۴۶، ﺡ ۴]

ﻣﻮﻣﻦ کا احترام کرنا

اسی احترام مومن کی عدم رعایت کو خداوند عالم اپنے احترام کی عدم رعایت قرار دیتا ہے اور ایسا سلوک ایک مسلمان غریب کے ساتھ ہوتا ہے تب بھی اللہ کی ناراضگی شامل حال ہے جبکہ احترام کا برتاؤ ایک غریب مسلمان کے ساتھ کیا جاتا ہے نیز اسے محترم قرار دیں گے تو خداوند متعال بھی راضی ہوتا ہے نیز حقیقت میں پروردگار عالم کو ہی محترم قرار دے رہے ہیں.
چنانچہ پیغمبر اسلام (ص) نے ایک ﺣﺪیث میں ﻓﺮمایا ہے: «ہر وہ شخص جو ایک غریب مسلمان کا اکرام کرے گا تو قیامت کے روز خداوند متعال اس سے راضی رہے گا پس آگاہ ہو جاؤ کہ ہر مسلمان اپنے مسلمان برادر کا اکرام کرتا ہے تو خداوند عالم بھی اس کا اکرام کرے گا.»
[ﻭﺳﺎﺋﻞ ﺍﻟﺸﯿﻌﻪ، ﺣﺮ ﻋﺎﻣﻠﯽ، ﺗﺮﺟﻤﻪ: ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﻓﺎﺭﺍﺑﯽ، ﺑﺎﺏ ۱۴۶، ﺡ ۵]
مذکورہ بالا حدیث سے ہی ہمیں یہ نتیجہ اس طرح پتہ چلتا ہے کہ اس دنیا کے اکرام کا پھل آخرت میں مل رہا ہے اور مسلمان کا اکرام کرنا خداوند متعال کے اکرام کرنے کے مساوی ہے.

Post a Comment

To be published, comments must be reviewed by the administrator *

جدید تر اس سے پرانی