کیا ﺭﺳﻮلخدﺍ ‏(ﺹ‏) بی بی کے حجرہ میں مدفون ہیں؟ - ۵


کیا ﺭﺳﻮلخدﺍ ‏(ﺹ‏) بی بی ﻋﺎﺋﺸﻪ کے حجرہ میں مدفون ہیں؟

Image by Abdullah Shakoor from Pixabay 

مترجم: اعظمی بریر ابو دانیال


ﻫﻴﺜﻤﻲ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں:
★ ﻭ ﺭﺟﺎﻟﻪ ﺭﺟﺎﻝ ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ.
اور اس روایت کے سارے کے سارے ہی رجال صحیح ہیں. (ﻣﺠﻤﻊ ﺍﻟﺰﻭﺍﺋﺪ، 9/ 37.)
۶- پیغبر اسلام (ص) کے گھر کے بر خلاف بی بی عائشہ کے حجرہ میں صرف ایک ہی دروازہ رہتا ہے وہ بھی شام کی سمت میں واقع ہے یعنی بی بی جی کے حجرہ کا دروازہ شام ہی کی طرف قرار پاتا ہے. (یعنی مسجد کی جنوبی سمت اور قبلہ کی طرف ہوتا ہے جس کا دروازہ مسجد کی طرف ہی کھلتا رہتا ہے.)
جیسا کہ ذیل کی روایت سے ہم ثابت کر رہےہیں:
ﻓﺴﺄﻟﺘﻪ ﻋﻦ ﺑﻴﺖ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﻓﻘﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﺑﺎﺑﻪ ﻣﻦ ﻭﺟﻬﺔ ﺍﻟﺸﺎﻡ ﻓﻘﻠﺖ: ﻣﺼﺮﺍﻋﺎ ﻛﺎﻥ ﺃﻭ ﻣﺼﺮﺍﻋﻴﻦ؟ ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﺑﺎﺑﺎ ﻭﺍﺣﺪﺍ. ﻗﻠﺖ: ﻣﻦ ﺃﻱ ﺷﺊ ﻛﺎﻥ؟ ﻗﺎﻝ: ﻣﻦ ﻋﺮﻋﺮ ﺃﻭ ﺳﺎﺝ.
پس اس نے عائشہ کے گھر کے بارے میں مجھ سے سوال کیا تو میں نے کہا: ایک ہی دروازہ تھا وہ بھی شام کی سمت کی طرف ہی واقع ہوتا ہے. میں نے کہا: ان کے حجرہ کا ایک در تھا یا دو در تھے.؟ تو اس نے جواب دیا: ایک ہی در تھا. میں نے پوچھا کہ وہ دروازہ کس لکڑی سے بنا ہوا تھا.؟ اس نے جواب دیا: ان کا دروازہ عرعر یا ساج کی لکڑی سے بنا ہوا تھا. (ﺍﻷﺩﺏ ﺍﻟﻤﻔﺮﺩ ﻟﻠﺒﺨﺎﺭﻱ، ﺹ 168؛ ﺇﻣﺘﺎﻉ ﺍﻷﺳﻤﺎﻉ، 10/ 92؛ ﺳﺒﻞ ﺍﻟﻬﺪﻱ، 3/ 349؛ ﺳﻤﻂ ﺍﻟﻨﺠﻮﻡ ﺍﻟﻌﻮﺍﻟﻲ، ﺹ 218)
مذکورہ بالا روایت سے ہمیں چند نتیجے حاصل ہو رہے ہیں:
حدیث کی اس حصہ میں یہ کہا جاتا ہے: ‏«میں نے بی بی عائشہ کے حجرہ کے محل وقوع کے بارے میں سوال کیا‏» جس سے یہی دلیل قائم ہوتی ہے کہ سوال کرنے والا اس بات کا یقین رکھے ہوئے تھا کہ بی بی عائشہ کا حجرہ اسی مقام پر ہے جسے آج کل لوگ پیغمبر اکرم (ص) کے مدفن کی حیثیت سے پہچانتے ہیں جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے لہذا بی بی عائشہ کے حجرہ کے محل وقوع کے سلسلہ میں ہی وہ سوال کر رہا تھا.
★★ اس روایت سے یہی مشخص ہوتا ہے کہ مسجد النبی میں شامی سمت میں جو مسجد کے شمالی حصہ میں واقع ہوتا ہے.
۷- اسی ایک مطلب کو ہی بخاری، احمد بن حنبل اور طبقات ابن سعد میں رسولخدا (ص) کے خادم انس بن مالک سے ایک روایت نقل کیا ہے اور اس دعوت ولیمہ و مہمان نوازی میں جو رسولخدا (ص) اور زینب بنت جحش کی شادی کے موقع کہ مناسب پر تقریب کی توصیف کرتے ہیں اسی سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ جس مقام پر مہمانوں کی پذیرائی ہو رہی تھی وہ رسول اللہ (ع) کے اس مخصوص حجرہ شریف کے اور عائشہ کے گھر کے درمیان میں نسبتا قابل توجہ فاصلہ رہتا ہے نیز عائشہ کا حجرہ مسجد کے باہر واقع ہوتا ہے لہذا آنحضرت (ص) طعام تناول فرمانے کے بعد بی بی عائشہ کے حجرہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں لیکن بعد میں متوجہ ہوتے ہیں کہ ابھی تک بعض مہمانوں کے معدہ میں سنگینی کہ بنا پر اب تک رسول اکرم (ص) کے حجرہ شریف میں آرام فرما ہیں اسی بنا پر آنحضرت دوبارہ عائشہ بی بی کے حجرہ سے اپنے خاص حجرہ شریف کی طرف واپس تشریف لے جاتے ہیں اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب "حجاب والی آیت نازل ہوتی ہے. جیسا کہ ارشاد ربانی ہوتا ہے: اے ایمان والو! … جب پیغمبر اکرم (ص) کے گھر پر مہمان نوازی کیلئے تمہیں دعوت دی گئی اور تم لوگوں نے اسے قبول بھی کیا تو طعام تناول کرنے کے بعد آنحضرت کے حجرہ شریف سے نکل کر اپنی اپنی منزل کی طرف ہی چلے جایا کرو.  (سورہ ﺍﺣﺰﺍﺏ 52)

Post a Comment

To be published, comments must be reviewed by the administrator *

جدید تر اس سے پرانی