کیا ﺭﺳﻮلخدﺍ (ﺹ) بی بی ﻋﺎﺋﺸﻪ کے حجرہ میں مدفون ہیں؟
Image by Abdullah Shakoor from Pixabay
مترجم: اعظمی بریر ابو دانیال
جناب عائشہ کا اپنا ہی حجرہ فروخت کرنا
ﻓَﻤَﺸَﻲ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠَّﻪِ (ص) ﻭَﻣَﺸَﻴْﺖُ ﻣَﻌَﻪُ ﺣَﺘَّﻲ ﺟَﺎﺀَ ﻋَﺘَﺒَﺔَ ﺣُﺠْﺮَﺓِ ﻋَﺎﺋِﺸَﺔَ، ﺛُﻢَّ ﻇَﻦَّ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠَّﻪِ (ص) ﺃَﻧَّﻬُﻢْ ﺧَﺮَﺟُﻮﺍ ﻓَﺮَﺟَﻊَ ﻭَﺭَﺟَﻌْﺖُ ﻣَﻌَﻪُ، ﺣَﺘَّﻲ ﺩَﺧَﻞَ ﻋَﻠَﻲ ﺯَﻳْﻨَﺐَ ﻓَﺈِﺫَﺍ ﻫُﻢْ ﺟُﻠُﻮﺱٌ ﻟَﻢْ ﻳَﺘَﻔَﺮَّﻗُﻮﺍ، ﻓَﺮَﺟَﻊَ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠَّﻪِ (ص) ﻭَﺭَﺟَﻌْﺖُ ﻣَﻌَﻪُ، ﺣَﺘَّﻲ ﺑَﻠَﻎَ ﻋَﺘَﺒَﺔَ ﺣُﺠْﺮَﺓِ ﻋَﺎﺋِﺸَﺔَ، ﻓَﻈَﻦَّ ﺃَﻥْ ﻗَﺪْ ﺧَﺮَﺟُﻮﺍ، ﻓَﺮَﺟَﻊَ ﻭَﺭَﺟَﻌْﺖُ ﻣَﻌَﻪُ، ﻓَﺈِﺫَﺍ ﻫُﻢْ ﻗَﺪْ ﺧَﺮَﺟُﻮﺍ، ﻓَﺄُﻧْﺰِﻝَ ﺁﻳَﺔُ ﺍﻟْﺤِﺠَﺎﺏِ، ﻓَﻀَﺮَﺏَ ﺑَﻴْﻨِﻲ ﻭَ ﺑَﻴْﻨَﻪُ ﺳِﺘْﺮًﺍ.
ﭘﺲ ﺭﺳﻮلخدﺍ (ص) گئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا یہاں تک کہ ہم (دونوں) عائشہ کے گھر کے پاس پہونچ گئے پھر آنحضرت کو یہ گمان ہوا کہ وہ لوگ واپس گئے ہوں گے پس رسول اللہ (ص) پلٹے تو میں بھی آنجناب کے ساتھ پلٹ گیا یہاں تک کہ زینب کے گھر میں داخل ہوئے اور وہاں پر مہمان ابھی تک بھی بیٹھے ہوئے تھے اور کوئی بھی اب جدا نہیں ہوا تھا پس رسولخدا (ص) پلٹے تو میں بھی آنجناب کے ساتھ پلٹ گیا یہاں تک کہ عائشہ کے گھر تک پہونچ گئے پھر سے آنحضرت کو یہ گمان ہوا کہ وہ لوگ واپس گئے ہوں گے پس رسولخدا (ص) پلٹے تو میں بھی آنجناب کے ساتھ پلٹ گیا پھر جب سب ہی لوگ خارج ہو گئے تو آیت حجاب نازل ہوئی اور اسی وقت میرے اور ان کے درمیان پردہ آویزاں کیا گیا. (ﺻﺤﻴﺢ ﺑﺨﺎﺭﻱ، 6/ 26، ﺡ 6238؛ ﻣﺴﻨﺪ ﺃﺣﻤﺪ، 3/ 168؛ ﺍﻟﻄﺒﻘﺎﺕ ﺍﻟﻜﺒﺮﻱ، 8/ 104)
۸- رسول اسلام (ص) کی وفات کے بعد بی بی عائشہ نے اپنا حجرہ معاویہ کے ہاتھوں فروخت کیا. لہذا ان کا حجرہ بھی رسول اسلام (ص) کے مدفون ہونے کا مقام نہیں ہو سکتا کیونکہ انہوں نے اپنا حجرہ فروخت دیا تھا.
ﻭ إﺷﺘﺮﻱ (ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ) ﻣﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﻣﻨﺰﻟﻬﺎ، ﻳﻘﻮﻟﻮﻥ ﺑﻤﺎﺋﺔ ﻭﺛﻤﺎﻧﻴﻦ ﺃﻟﻒ ﺩﺭﻫﻢ ﻭﻳﻘﺎﻝ ﺑﻤﺎﺋﺘﻲ ﺃﻟﻒ ﺩﺭﻫﻢ ﻭﺷﺮﻁ ﻟﻬﺎ ﺳﻜﻨﺎﻫﺎ ﺣﻴﺎﺗﻬﺎ.
ﻣﻌﺎﻭیہ نے ہھی عائشہ سے ان کا مکان ایک لاکھ اسی ہزار درہم کے بدلے میں بیچا اور بعض نے تو یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے دو لاکھ درہم میں فروخت کیا تھامگر اس شرط کے ساتھ کہ بی بی عائشہ اپنی عمر کی آخر تک اسی حجرہ میں قیام پزیر رہیں گی. (ﺍﻟﻄﺒﻘﺎﺕ ﺍﻟﻜﺒﺮﻱ، 8/ 165)
مذكورہ ﻧﻈﺮيات كا نتيجه:
مذکورہ بالا ۸ دلائل سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کے جس حجرہ شریف کا تذکرہ اوپر تمام روایات میں ملتا ہے وہ آنحضرت کا مخصوص اور خاص حجرہ واقع ہوا ہے اور اسی خاص حجرہ میں ہی آنجناب کی وفات ہوئی ہے نیز اس کے ایک معنی یہ بھی نکلتا ہے کہ حکومت وقت نے بعد میں مسجد النبی پر قبضہ حاصل کر لیا اور اسے اپنے چنگل میں دبا لہا تا کہ بنی ہاشم کسی بھی طرح سے اس کے آڑ لے کر یا بہانہ بنا کر اپنے مقصد کی ترویج کیلئے اسے حاصل کر سکے.
بلکہ خود ساختہ حکمران کی بیٹی (عائشہ) نے اسی حجرہ پر دعوی کیا نیز اپنی ملکیت بھی قرار دیا اور حکومت وقت نے بھی اسے قبول کر لیا اور پیغمبر اکرم (ص) کی بیٹی اور حضرت علی (ع) کے قبضہ سے چھڑایا اور ان حالات میں کہ عائشہ کا خود کا مخصوص حجرہ اپنے مقام پر مسجد کی دوسری ہی سمت میں واقع تھا یعنی مسجد کے قبلہ کی طرف ہوتا ہے.
امیر المومنین علی بن ابیطالب (ع) کی خاموشی اور اہلبیت (ع) کی خاموشی حکومت کے خلاف تحریک چلانے میں بالکل ایک جیسا ہی موقف رہا ہے جو اصل خلافت و حکومت کے سلسلہ میں آنحضرت (ع) کا نظریہ رہا ہے. یعنی رسولخدا (ص) کی طرف سے صبر و تحمل کی تلقین کا حکم فرمایا تھا یہاں تک کہ فرزند خاتم الانبیاء، قائم آل محمد حجت بن حسن عسکری (عج) کا ظہور فرمائیں گے اور اپنے اجداد طاہرین (ع) کے ساتھ جو سلوک و برتاؤ ہوا ہے اس کے اسرار کو منکشف فرمائیں گے.

ایک تبصرہ شائع کریں