★ روز عاشورا کی عمومی کیفیت ★
مترجم: اعظمی بریر ابو دانیال
تاریخ: دس محرم الحرام سنہ اکسٹھ ہجری قمری
بمطابق دہم اکتوبر سنہ چھ سو اسّی عیسوی
بمساوی بیس یا اکیس مہر ماہ سنہ انسٹھ ہجری شمسی
دن: روز سہ شنبہ یا چہار شنبہ
آب و ہوا کی کیفیت: صاف و شفاف نیز بغیر ابر آلود. یعنی روشن و آفتاب مکمل طور پر چمکدار نیز کڑی دھوپ.
افق کربلا کے مطابق اذان صبح: چار بج کر اکتالیس منٹ بوقت فجر
اذان ظہر: گیارہ بج کر سیتالیس منٹ پر
اذان مغرب: پانچ بج کر پچاس منٹ پر
طلوع آفتاب: چھ بج کر تین یا سات منٹ پر
غروب آفتاب: پانچ بج کر اکتیس منٹ پر
دن کا دورانیہ یعنی طلوع تا غروب آفتاب: گیارہ گھنٹہ اور آٹھائیس منٹ کا ہے.
قافلہ امام کے افراد کی تعداد: تقریبا ایک سو پینتالیس افراد (پینتالیس سوار اور سو افراد پیادہ ہیں)
لشکر حسینی کی نفسیاتی کیفیت: صابر و شاکر، مستحکم، ناقابل متززل، موت سے بے خوف، پر نشاط، عشق خدا سے بھر پور، معنویت کے حامل، شبانہ عبادت میں مشغول اور عارفانہ بصیرت پر مشتمل ہیں.
دشمن کے سپاہیوں کی تعداد: تقریبا تیس سے تینتیس ہزار کی منظم سوار و پیادہ سپاہی، شمشیر زن، تیر انداز، نیزہ پھینکنے کے ماہر اور پتھر باز نیز ہر قسم کے آلات حرب سے مزین ہیں.
فوجی طاقت کا موازنہ: دو سو ستائیس یزیدی فوجیوں کے مقابل میں ایک حسینی سپاہی ہوتا ہے.
امام کے لشکر کی جنگی گھیرا بندی: نعل، مثلث و نیم دائرہ نما کی شکل میں ہوتی ہے.
دشمن کے لشکر کی جنگی گھیرا بندی: دائرہ نما (بائیں اور داہنے) قلب لشکر: سوارہ نظام، میسرہ: سوارہ نظام اور میمنہ: پیدل فوج
سپہ سالار اعظم: ابو عبد اللہ الحسین ع
علمدار لشکر حسینی: ابو الفضل العباس ع
میسرہ فوج کے سردار: حبیب بن مظاہر اسدی
میمنہ فوج کے سردار: زہیر بن قین بجلی
لشکر حسینی کا نعرہ: "یا محمد"
لشکر یزید کا نعرہ: "يا خيل الله إركبي" یعنی خدا کے فوجیو اٹھو! (یہی نعرہ پیغمبر اسلام ص کا جنگ میں ہوا کرتا تھا)
یزیدی لشکر کا سپه سالار اعظم: عمر بن سعد بن ابی وقاص
پیادہ فوج کا سردار: شبث بن ربعی تمیمی
پرچمدار لشکر یزید: عمر سعد کا غلام جس کا نام دُرَید یا ذُوَید تھا.
سواره نظام کا سردار: عروہ بن قیس
ستون چپ کا سردار: شمر بن ذی الجوشن
ستون راست کا سردار: عمرو بن حجاج زبیدی
صبح عاشورا کی ابتدا: اذان علی اکبر ع، اقامہ نماز فجر، اصحاب کے درمیان امام کا خطبہ، لشکر کی تیاری میں.
سر زمین کربلا کی نوعیت و کیفیت: خاردار پودے، نشیب و فراز یعنی ٹیلوں اور گڑھے والی سر زمین
خیام حسینی کی کیفیت: پر سکون، تشنہ لب اور ہر مصائب و آلام کے منتظر ہیں.
اسلحہ کی نوعیت: زرہ، خود، سپر، شمشیر، نیزہ، خنجر، سنان، زوبین یعنی چھوٹے نیزے، تیر و کمان، اور دیگر لوازمات جنگی ہیں.

ایک تبصرہ شائع کریں