بی بی نے کتنے سال کی عمر میں شادی کی تھی؟ - ۵


بی بی عائشه نے کتنے سال کی عمر میں شادی کی تھی؟

Image by Ahmad Ardity from Pixabay 

مترجم: اعظمي برير ابو دانيال

صفدي بھی اپنی کتاب ميں تحریر کرتے ہیں:
۱۵- وماتت بعده بأيام يسيرة سنة ثلاث وسبعين للهجرة وهي وأبوها وابنها وزوجها صحابيون قيل إنها عاشت مائة.
اسماء اپنے بیٹے عبد اللہ بن زبیر کے بعد سنہ تہتر ہجری میں اس دنیا میں وفات پائی نیز ان کے والد (ابو بکر)، بیٹے (عبد اللہ) اور شوہر (زبیر) رسول کے صحابی تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سو سال کی زندگی پائی.
الصفدي، صلاح الدين خليل بن أيبك (وفات764هـ) الوافي بالوفيات، 9/ 36، تحقيق أحمد الأرناؤوط وتركي مصطفي، ناشر: دار إحياء التراث - بيروت - 1420هـ- 2000م.
بيهقي بھی اپنی کتاب سنن میں نقل کرتے ہیں کہ اسماء اپنی بہن عائشہ سے دس سال بڑی تھیں.
۱۶- أبو عبد الله بن منده حكاية عن بن أبي الزناد أن أسماء بنت أبي بكر كانت أكبر من عائشة بعشر سنين .
ابن منده بھی ابن أبي الزناد سے نقل کرتے ہیں کہ ابو بکر کی بیٹی اسماء عائشہ سے دس سال بڑی تھیں.
البيهقي، أحمد بن الحسين بن علي بن موسي ابوبكر (وفات458هـ) سنن البيهقي الكبرى، 6/ 204، ناشر: مكتبة دار الباز - مكة المكرمة، تحقيق: محمد عبد القادر عطا، 1414 - 1994.
ذهبي اور ابن عساكر دمشقی بھی مذکورہ بالا قول کو اس طرح نقل کرتے ہیں:
۱۷- قال عبد الرحمن بن أبي الزناد كانت أسماء أكبر من عائشة بعشر.
ابن ابی زناد نے کہا: اسماء عائشہ سے دس سال بڑی تھیں.
الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (وفات748ھ) سير أعلام النبلاء، 2/ 289، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413ھ.
۱۸- قال ابن أبي الزناد وكانت أكبر من عائشة بعشر سنين.
ابن ابی زناد سے منقول ہے: اسماء عائشہ سے دس سال بڑی تھیں.
ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله، (وفات571هـ) تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، 69/ 8، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995.
ابن كثير دمشقي سلفي بھی اپنی كتاب البداية والنهاية ميں رقم طراز ہیں:
۱۹- وممن قتل مع ابن الزبير في سنة ثلاث وسبعين بمكة من الأعيان … أسماء بنت أبي بكر والدة عبد الله بن الزبير...وهي أكبر من أختها عائشة بعشر سنين…و بلغت من العمر مائة سنة ولم يسقط لها سن ولم ينكر لها عقل.
 شہر مکہ میں عبد اللہ بن زبیر سنہ تیہتر کی تاریخ کو اس دنیا سے گئے…...ابو بکر کی بیٹی اسماء جو عبد اللہ بن زبیر کی ماں…یہی عائشہ کی بڑی بہن دس سال بڑی تھیں اس حالت میں کہ ان کی سو سال کی عمر میں اس دنیا سے کوچ کیا تھا اور ان کے ایک بھی دانٹ نہیں ٹوٹے اور ان کی عقل میں بھی کوئی خلل نہیں پڑا تھا.
ابن كثير الدمشقي، إسماعيل بن عمر القرشي ابو الفداء، البداية والنهاية، 8/ 345 ـ 346، ناشر: مكتبة المعارف - بيروت.
ملا علي قاري بھی تحریر کرتے ہیں:
۲۰- وهي أكبر من أختها عائشة بعشر سنين وماتت بعد قتل ابنها بعشرة أيام … ولها مائة سنة ولم يقع لها سن ولم ينكر من عقلها شيء، وذلك سنة ثلاث وسبعين بمكة.
عائشہ سے دس سال بڑی بہن اسماء تھیں جو اپنے بیٹے کے قتل ہونے کے دس روز کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئیں، وفات کے وقت ان کی عمر سو سال پہونچ گئی، ان کے دانت بھی نہیں ٹوٹے اور عقل بھی زائل نہیں ہوئی تھی ان کی وفات مکہ میں سنہ تہتر ہجری کو ہوئی.
ملا علي القاري، علي بن سلطان محمد الهروي، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، 1/ 331، تحقيق: جمال عيتاني، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان / بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2001م .
امير صنعاني اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
۲۱- وهي أكبر من عائشة بعشر سنين وماتت بمكة بعد أن قتل ابنها بأقل من شهر ولها من العمر مائة سنة وذلك سنة ثلاث وسبعين .
اسماء عائشہ سے دس سال بڑی تھی اور اپنے بیٹے کے قتل کے ایک ماہ کے اندر ہی ان کی مکہ میں وفات ہوئی اس حال میں کہ ان کی عمر سو سال ہوگئی اور یہ واقعہ سنہ تہتر ہجری میں رونم  ہوا.
الصنعاني الأمير، محمد بن إسماعيل (وفات852هـ) سبل السلام شرح بلوغ المرام من أدلة الأحكام، 1/ 39، تحقيق: محمد عبد العزيز الخولي، ناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: الرابعة، 1379هـ.

Post a Comment

To be published, comments must be reviewed by the administrator *

جدید تر اس سے پرانی