پیغمبر اسلام (ص) کا شیطان سے مکالمہ۔ ۲


امام علیؑ کے سلسلہ میں شیطان کا نظریہ کیا تھا۔؟


مترجم : اعظمی بُرَیر ابو دانیال

پیغمبر اکرم (ص) نے شیطان سے پوچھا: تیرا نظریہ میرے وصی علی بن ابیطالبؑ کے سلسلہ میں کیا ہے؟
شیطان نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! میں علیؑ کی ذات تک اپنی پہونچ نہیں رکھتا، اس شخص تک ہماری نظر میں پہونچنا (قابو پانا) ممکن ہی نہیں ہے؛ چونکہ پروردگار عالم سے ان کا رابطہ مستحکم ہے اور ہم ان کی ذات تک پہونچ بھی نہیں سکتے اور میں اسی بات پر راضی ہوں کہ وہ ہم سے کوئی بھی کام نہ رکھیں گے کیونکہ میں ایک لمحہ کیلئے ان کے دیدار کی طاقت و قوت نہیں رکھتا ہوں چونکہ علی کا نور الہی اس قدر محکم و قوی ہے کہ وہی نور ہیں ان سے دور کرتا رہتا ہے۔
حضرت رسول اکرم (ص) نے پوچھا: اے شیطان! اس دنیا میں تیرے دوست کون لوگ ہیں۔؟
تو شیطان نے جواب دیا: وہی لوگ میرے دوست ہیں جو لوگ کی باتیں ان کی پیٹھ کے پیچھے کرتے ہیں یعنی غیبت کرنے والے ہی میرے دوست ہیں اور جو نماز کے پابند نہیں ہیں۔
حضرت رسول اسلام (ص) نے فرمایا: تیرے ہمنشین (ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے) کون لوگ ہیں۔؟
شیطان نے جواب دیا: شراب پینے والے اور اسی طرح سے تمام زنا کرنے والے میری ہی آغوش میں ہوتے ہیں۔
پیغمبر رحمت (ص) نے پوچھا: تیرے وکلا (وکیل حضرات) کون لوگ ہیں۔؟
شیطان نے جواب دیا: میرے وکلا (وکیل لوگ) ناپ تول میں کمی کرنے والے اور وہ مال و دولت رکھنے والے ہیں جو اللہ کی راہ میں انفاق نہیں کرتے و رقوم شرعیہ بھی ادا نہ کرتے ہوں۔
پیغمبر خدا (ص) نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے پوچھا: اے شیطان! تیری رضامندی و خوشی کس چیز میں ہے۔؟
تو شیطان نے جواب دیا: میری خوشی و رضامندی اسی میں ہے کہ لوگ جھوٹی قسم کھاتے رہیں۔
آنحضرت (ص) نے پوچھا: تیری آنکھوں کو کونسی چیز سے اندھی کرتی ہے۔؟
شیطان نے جواب دیا: جب کوئی مدد کرنے والا محتاجوں کو تنہائی میں مدد کرتا ہے۔
پیغمبر (ص) نے فرمایا: تیرے کان کو کونسی چیز بہرہ کرتی ہے۔؟ 
شیطان نے جواب دیا: جس وقت آپ کی امت اپنے ہاتھوں کو پروردگار متعال کی بارگاہ میں بلند کر کے "یا اللہ و یا رب" کہتی ہے تو میرے کان بہرے ہو جاتے ہیں۔
بقیہ آئندہ ا.ا.م

Post a Comment

To be published, comments must be reviewed by the administrator *

جدید تر اس سے پرانی